ادبیات مطالعہ کتب انمول تحفہ

انمول تحفہ

-

- Advertisment -

======?======
*انمول تحفہ*
✒: حنا نرجس

فرحان نے کینٹین سے شوارما خرید تو لیا لیکن تیز مرچوں کی وجہ سے وہ بمشکل ایک چوتھائی ہی کھا سکا. صبح امی کو بخار تھا اس لیے وہ معمول کے مطابق لنچ بنا کر نہیں دے سکی تھیں. دادی اماں نے سب بچوں کو دودھ کا ایک ایک گلاس پلا کر جیب خرچ دیتے ہوئے سکول روانہ کر دیا اس تاکید کے ساتھ کہ آج سکول کی کینٹین سے کچھ خرید کر کھا لینا. اس سے پہلے کبھی ایسا ہوتا کہ امی کسی وجہ سے صبح سویرے لنچ نہ بنا سکتیں تو بریک ٹائم سے کچھ پہلے بنا کر ملازم کے ہاتھ بھجوا دیتی تھیں. لیکن آج تو ملازم بھی چھٹی پر تھا. فرحان کو کینٹین کی چیزیں کبھی پسند نہیں آتی تھیں. تیز مرچ مسالوں کی وجہ سے پہلا نوالہ لیتے ہی اس کی زبان جلنے لگتی اور آنکھوں سے پانی بہنے لگتا. اب بھی وہ شوارما واپس لپیٹ چکا تھا اور بسکٹ کھا کر بھوک مٹانے کی کوشش کر رہا تھا. وہ بچا ہوا شوارما بستے میں رکھنے کی غرض سے کمرہ جماعت میں داخل ہوا تو شاہ میر سائنس کی کتاب کھولے بیٹھا تھا. فرحان ایک دم گھبرا گیا اور سوچنے لگا، “کیا آج کے لیے سائنس کا کوئی کام ملا تھا؟” جب کچھ یاد نہ آیا تو شاہ میر سے ہی پوچھ لیا،

“یار کون سا سوال یاد کر رہے ہو؟ کیا آج کوئی ٹسٹ ہے؟”

شاہ میر نے اس کی بات سنی ہی نہیں اور اپنی سرگرمی میں مگن رہا حتیٰ کہ فرحان نے جا کر اس کا کندھا ہلایا اور اپنا سوال دہرایا.

” نہیں… نہیں… میں تو وہ…”

“کیا میں تو وہ؟ اور تم گھبرا کیوں گئے ہو؟”

شاہ میر نے دائیں بائیں دیکھ کر اطمینان کیا اور سائنس کی کتاب جو وہ ایک جھٹکے سے بند کر چکا تھا، پھر کھول لی.

“میں تو یہ رسالہ پڑھ رہا تھا. بہت مزے کی کہانی ہے. تم نے خواہ مخواہ کی دخل اندازی کر کے میرا تسلسل توڑ دیا.” شاہ میر نے مصنوعی ناراضگی سے کہا.

“دکھاؤ مجھے. کیا ہوتا ہے اس رسالے میں؟ کہاں سے ملتا ہے؟ تم نے خود خریدا ہے یا تحفے میں ملا ہے؟” فرحان نے رسالہ تقریباً چھینتے ہوئے الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے پوچھا.

“کیا ایک ہی سانس میں پوچھ ڈالو گے سب کچھ؟”

شاہ میر اب خود فرحان کو رسالہ شروع سے کھول کر دکھانے لگا. فرحان تصاویر کی مدد سے کہانیوں کے بارے میں اندازے لگا رہا تھا کہ ان کہانیوں میں کیا ہو گا. لطائف، خطوط، تصویری کہانی، معلومات، انعامی سلسلے پتہ نہیں کیا کیا تھا اس جادو کی شے میں کہ فرحان کے دل و دماغ رسالے کے سحر میں گرفتار ہو گئے. پھر ایک کہانی پڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ رکا اور بولا،

“میں تو اسے روانی سے نہیں پڑھ سکتا، تم کیسے پڑھ لیتے ہو، شاہ میر؟ ہاں، تم پڑھ سکتے ہو کیونکہ اردو کے ٹسٹ میں تم ہی ٹاپ کرتے ہو. میری اردو تو بہت کمزور ہے.” فرحان نے اپنے اٹھائے گئے سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے آخر میں اداس سا منہ بنا لیا.

“یہ کون سا مسئلہ ہے؟ رسالہ خرید لو اور گھر میں کسی بڑے سے کہو تمہیں پڑھ کر سنا دے.” شاہ میر نے چٹکی بجاتے مسئلے کا حل پیش کر دیا.

“ہاں یہ ٹھیک ہے.” اداس ہوتے فرحان کی آنکھیں ایک بار پھر چمک اٹھیں.

چھٹی کے وقت ابو نے ان سب کو سکول سے لیا تو فرحان نے سب سے پہلے امی کی طبیعت کے بارے میں پوچھا. وہ اب بہتر تھیں. ادھر سے اطمینان ہونے کے بعد اس نے ابو سے فرمائش کی کہ مجھے ذرا دیر کو ایک بک شاپ پر رک کر رسالہ خریدنا ہے. جلد ہی رسالہ اس کے ہاتھوں میں تھا. کچھ خواہشات کتنی جلدی پوری ہو جاتی ہیں نا.

شام کو قاری صاحب اور ٹیوٹر انکل سے فارغ ہو کر اس نے رسالہ نکالا اور دادی اماں کے پاس پہنچ گیا. ان سے کہانی پڑھ کر سنانے کی فرمائش کی. وہ بولیں،

“بچے میں تو ابھی ابھی پورے ایک سپارے کی تلاوت کر کے فارغ ہوئی ہوں. آنکھیں تھک گئی ہیں. ابھی تو نہیں سنا سکتی. پھر کسی وقت سہی.”

فرحان ابو کے پاس چلا آیا. وہ لیپ ٹاپ پر کاروبار کے سلسلے میں آئی ہوئی ای میلز چیک کر رہے تھے. فرحان کو ان سے ملنے والے سپاٹ جواب کا اندازہ تو تھا لیکن ایک کوشش کرنے میں کیا حرج تھا. ابو بولے،

“اگر پڑھنا نہیں آتا تھا تو خریدا کیوں؟ کم از کم میرے پاس تو اتنا وقت نہیں ہے کہ آپ کو کہانیاں پڑھ کر سنا سکوں.”

وہ منہ لٹکائے کچھ سوچتا رہا، پھر باورچی خانے میں امی کے پاس چلا آیا. امی کو تو موقع چاہیے تھا اسے احساس دلانے کا فوراً اپنے مطلب کی بات پر آ گئیں،

“چہارم کلاس میں پڑھتے ہو اور ابھی تک اردو اتنی رواں نہیں ہوئی کہ بچوں کے رسالے سے کہانیاں پڑھ سکو. کبھی سکول سے شکایات آ رہی ہوتی ہیں، کبھی ٹیوٹر شکایت لگا رہے ہوتے ہیں. شاہ میر کی دیکھا دیکھی رسالہ تو خرید لیا، یہ بات یاد ہی نہ رہی کہ وہ تو اردو تخلیقی لکھائی میں کلاس کا بہترین طالب علم ہے اور آپ اردو میں بمشکل پاس ہوتے ہو.” فرحان سر جھکائے سنتا رہا. وہ سکول سے آتے ہی امی کو سب کچھ بتانے کا عادی تھا. رسالے سے تعارف کی کہانی اور خریداری کے متعلق بھی وہ بتا چکا تھا.

آپی سے درخواست کی تو جھٹ سے بولیں،”کیوں میں کیوں سناؤں؟ کل جب میں نے تم سے چپس لا کر دینے کو کہا تھا تو تم ٹانگوں میں درد کا بہانہ کر کے صاف ٹال گئے تھے. خود ہی پڑھو جوڑ توڑ کر کے.” وہ بات کے اختتام پر اس کا مذاق اڑانا نہیں بھولی تھیں.

بھیا کا جواب بھی اسے پہلے سے ہی پتہ تھا. وہ یقیناً کہتے، “میں جب تمہارے لیپ ٹاپ کے ٹائم میں سے چند منٹ بھی مانگ لوں کہ بس تھوڑی سی گیم اور کھیلنے دو تو کیا تم مجھے دیتے ہو؟ چلو بھاگو یہاں سے.”

ایک امید ابھی باقی تھی. شاید چچی ہی سنا دیں. دادا ابو اور چچا تو رات کو دیر سے گھر آتے تھے. اس نے چچی جان سے درخواست کی تو جواب ملا،

“بیٹا، میں آپ کو ضرور سناتی لیکن ابھی میں نے ننھی عائشہ کو نہلانا ہے، کھانا کھلانا ہے اور سلانا ہے. ہاں، اس کے بعد آپ آ سکتے ہو.” ان کا لہجہ شفقت آمیز تھا لیکن فرحان کا دل اتنی بار ٹوٹ چکا تھا کہ اس نے اسے بھی ایک خوبصورت بہانہ ہی جانا.

فرحان کمرے میں آ کر صوفے پر پاؤں سمیٹ کر بیٹھ گیا اور جوڑ توڑ کر کے وہ کہانی پڑھنا شروع کی جس کی تصاویر اسے سب سے زیادہ پسند آئی تھیں. بمشکل آدھا صفحہ پڑھا ہو گا کہ اس کی آنکھ لگ گئی. رسالہ اوندھا ہو کر اس کی گود میں گر گیا.

سو کر اٹھا تو اچانک اسے تائی اماں کا خیال آیا. تایا تائی اوپر والے پورشن میں رہتے تھے. ان کے ہاں اولاد نہیں تھی. وہ دونوں فرحان کو خصوصی طور پر چاہتے تھے. تایا ابو کاروبار کے سلسلے میں اکثر کئی کئی مہینوں کے لیے انگلینڈ میں مقیم رہتے. اجازت لے کر فرحان تائی اماں کے کمرے میں گیا تو وہ سکائپ پر تایا ابو سے بات کر رہی تھیں. ویڈیو کیمرے میں تایا ابو کی نظر فرحان پر پڑی تو اپنے مخصوص انداز میں اسے مخاطب کیا،

“اور کیا کر رہا ہے آج کل میرا شیر؟”

شیر کچھ زیادہ ہی اداس تھا کہ زمانے بھر کی مظلومیت چہرے پر سجاتے ہوئے آج کی ساری داستان کہہ سنائی.

جواباً وہ قہقہہ لگا کر ہنسے، “بس اتنی سی بات پر گھبرا گیا میرا شیر. دیکھو، سب سے پہلے تو یہی کہوں گا کہ اپنی اردو پر زیادہ سے زیادہ محنت کرو. یہ ایک رسالہ ہی نہیں ہے دنیا میں، بلکہ رسائل کا ایک جہان آباد ہے. پڑھنا آ جائے گا تو تم خود اپنے بل بوتے پر کتابی دنیا کی سیر کیا کرو گے. کسی کی محتاجی نہیں رہے گی. اور جب تک اردو بہتر نہیں ہوتی. میرے پاس تمہارے لیے ایک خوشخبری ہے.”

“وہ کیا؟” فرحان بے تابی سے بولا.

“وہ یہ کہ میں اسی ہفتے تمہیں کچھ کتابیں بھجواتا ہوں. یہ خاص قسم کی کتابیں ہیں. ہر صفحے پر ایک پلے بٹن (play button) ہے. بٹن دبانے پر کتاب خود اپنے آپ کو پڑھ کر سنائے گی.”

“سچ مچ تایا جان!؟ آپ نے مجھے اس سے پہلے کبھی کیوں نہیں بتایا؟” فرحان کی خوشگوار حیرت دیدنی تھی.

“اس لیے کہ مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ ہمارے خاندان میں بھی کوئی ادیب پیدا ہو چکا ہے.” تایا جان نے شرارت سے کہا.

“لیکن تایا جان،” فرحان کا لہجہ ایک دم پھر سے اداس ہو گیا، “وہ کتابیں تو صرف انگریزی میں ہوں گی. مسئلہ تو پھر بھی باقی رہے گا کہ جب تک میری انگریزی بہت اچھی نہیں ہو جاتی کوئی بڑا مجھے اردو میں ترجمہ کر کے سمجھائے.”

“اوہ نہیں میرے شیر، ہم ادھورے حل نہیں بتاتے. آپ پلے کا بٹن دباؤ گے تو ایک مینیو ظاہر ہو گا اور آپ سے پوچھا جائے گا کہ آپ کس زبان میں کہانی سننا یا پڑھنا پسند کریں گے. جو زبان آپ منتخب کرو گے کہانی کا متن اسی زبان میں تبدیل ہو جائے گا اور کتاب آپ کو کہانی سنانے لگے گی. جو لفظ بولا جا رہا ہو گا وہ ہائی لائٹ ہوتا جائے گا. یوں آپ کی زبان و املا کی کمی دور کرنے میں بھی یہ کتاب مددگار ثابت ہو گی.”

“زبردست! اس طرح تو میں ایک ہی کتاب سے اردو اور انگلش دونوں بہتر کر سکوں گا. واؤ! ہُرّے!” شیر کا چہرہ چمکنے لگا.

“آڈیو کتابیں اگرچہ آپ لیپ ٹاپ یا سیل فون پر بھی سن سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ متن بھی دیکھ سکتے ہیں، لیکن جو کتابیں میں آپ کو بھیجوں گا، ان کی خاص بات یہ ہے کہ پکڑنے میں آپ کو یہ روایتی کتاب ہی کی طرح لگے گی. ایک جلد میں بندھے بہت سارے صفحات. لیکن ہے یہ جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار. اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ انگریزی میں لکھی گئی کہانی کو دنیا کی تقریباً تمام بڑی زبانوں میں پڑھنے کی سہولت موجود ہے.”

“حیران کن!”

“بالکل! آپ چاہو تو سپیکر آن کر کے سن سکتے ہو، ورنہ دوسروں کی مصروفیات میں خلل کا ڈر ہو تو ایئر فونز لگا لو.”

“بس اب آپ جلدی سے بھیج دیں.” فرحان نے بے صبری سے کہا.

“بھئی جب تک وہ کتابیں نہیں پہنچتیں، میرے شیر کو اس کے رسالے سے کہانیاں پڑھ کر سنایا کرو.” اب کے تایا ابو تائی اماں سے مخاطب تھے جو مسکراتے ہوئے تایا بھتیجے کی باتیں سن رہی تھیں.

گرین سگنل ملتے ہی فرحان اپنا رسالہ لانے نیچے بھاگ گیا. وہ سوچ رہا تھا کہ مجھے یہ دلچسپ بولتی کتابیں مل جائیں گی، تو میں اپنے لیپ ٹاپ پر گیم کھیلنے کے تیس منٹ میں سے آرام سے دس منٹ بھیا کو دے دیا کروں گا. آپی بھی جب کہیں گی، انہیں چیز لا دیا کروں گا. بہن بھائیوں سے تعلقات اچھے رکھنے چاہئیں. کیا پتہ کب کس سے کام پڑ جائے.
===========

Latest news

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ مستقل نائلہ کو...

اندر باہر کا رشتہ

✒: ام مریم آمنہ نے جیسے ہی فجر کی نماز پڑھ کے سلام پھیرا تو آیان کو جاۓ نماز پر...

محبتیں زندہ رہتی ہیں!

✍? مریم خالد استاد ذوق کو کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر لگتا ہو...
- Advertisement -

رحمت کا سودا

رحمت کا سودا تحریر : خدیجہ اسحاق "رخشی آپی ....اتنی بے جا پابندیاں نہ لگایا کریں پلیز! آپ کو تو ہر...

سوال نمبر 2

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔ تین بچے ہیں۔ شوہر اور سسرال والے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں...

Must read

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم...
- Advertisement -

You might also likeRELATED
Recommended to you