ادبیات کہانیاں ایک ذمہ داری یہ بھی!!!

ایک ذمہ داری یہ بھی!!!

-

- Advertisment -

تمہیں ایک روز میری دوستی پہ فخر ہوگا!!
دیکھنا وانیہ خان کتنی جلدی ترقی کرے گی…. دنیا مجھ سے ملنے کو ترسے گی!!!
وانیہ کا یہ خواب ہے اور یہ خواب ضرور پورا ہوگا.

وانیہ جو چند سیکنڈ پہلے مکنون کے بیڈ پہ دھپ کرکے بیٹھی تھی، اب بالوں کی لٹوں کو پیچھے کرتے، کبھی آنکھیں سکیڑتے اور کبھی پھیلاتے ایک ادا سے بولتے ہوئے کسی اور دنیا کی باسی لگ رہی تھی …

یااللہ!!!! اس لڑکی کا کیا بنے گا؟؟ مکنون دل ہی دل میں کڑھ کے رہ گئی.

اچھا پلیز!!!!! تم جاؤ ..اور چاہے مزید خوابوں کے انبار لگاؤ میری بلا سے،،، بس مجھے ڈسٹرب نہ کرو.. مکنون ہاتھ جوڑ کر جان چھڑاتے ہوئے بولی…

“ایک تو میری قسمت ہی خراب ہے جو تم جیسی سڑیل، دنیا سے بے نیاز اور مردہ دل دوست میرے پلے پڑی ہے. میری خوشیوں میں خوش ہونا تو بڈھی روح کو گوارا ہی نہیں.” وانیہ جو خواب دیکھتے ہوئے آسمان پہ چڑھنے کی کوشش کررہی تھی، مکنون کی بات سن کر زمین پہ دھڑام سے گرتے ہی ماتھے پہ بل ڈال کر غصے سے بولی.

” تو جاؤ ڈھونڈ لو اچھی دوست، جو تمہارے ہر غلط کام پہ وا واہ کرکے تمہیں برائی کے اندھے کنویں میں ڈالے، جہاں سے تم نکل بھی نہ سکو. مجھ سے تمہاری چاپلوسیاں نہیں ہوتیں.” مکنون نے بھی تپ کر جواب دیا..

وانیہ نے اپنی ٹکر کا جواب سن کر جانے میں عافیت سمجھی اور نخوت سے *ہونہہ* کہہ کے پیر پٹختی ہوئی باہر چلی گئی…

◼◽◼◽◼◽◼

وانیہ اور مکنون بچپن کی سہیلیاں تھیں.. ہمیشہ کلاس میں ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے دونوں کے والدین نے ایک ساتھ ہی ہاسٹل بھیجا.. وانیہ جو پہلے مکنون کی ہم مزاج تھی، روز بروز بدلنے لگی تھی. ہاسٹل کی ہوا اور ماڈرن ماحول اس کو راس نہیں آرہا تھا. خود کو نمایاں کرنے کے چکروں میں آئے روز آؤٹ پٹانگ حرکتیں کرتی. کبھی اوور اسمارٹ بننے کے لیے ٹیچرز کی نقل، تو کبھی کانفیڈنس کے نام پہ کسی کلاس فیلو کو کھری کھری سنانا اس کا معمول بنتا جارہا تھا. دوستی کا لبادہ اوڑھنے والے دشمن اس کی ہر برائی پر واہ واہ کے نعرے لگاتے. لمحوں کے لیے تعریف کے چند بول بول کر داد دیتے اور مزید برائی پہ اکساتے. ناسمجھ وانیہ تعریفیں سننے کی چاہ میں ہر حد کراس کرنے لگی اور یوں روز بروز شہرت کی ہوس بڑھتی چلی گئی …

◼◽◼◽◼◽◼

“یااللہ.. مجھ سے دوستی کا حق ادا نہیں ہوا. میرے پروردگار مجھے معاف کردے.. مجھے توفیق بھی دے کہ میں اپنی پیاری دوست کو گناہوں کی دلدل سے نکال سکوں. یارب مجھے حکمت دے، میری مدد فرما… میری زبان میں اتنی تاثیر دے کہ میری بات اس کے دل پہ اثر کر سکے… دوستی میں ناکام ہوکر، آپ کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا چاہتی.”
رات کے آخری پہر بہت خوبصورت دل رکھنے والی لڑکی اپنی دوست کے لیے خشوع و خضوع سے دعائیں مانگتے ہوئے کبھی نظر اٹھا کے آسمان کو دیکھتی تو کبھی آسمانوں کے مالک کی بارگاہ میں اٹھے اپنے ہاتھوں کو دیکھتی!!!!

کیا یہ ضروری ہے کہ صرف ایک دوستی کی خاطر راتوں کو اٹھا جائے اور رورو کر رب سے دعائیں کی جائیں؟؟ کہیں سے آواز آئی ….
جی بالکل یہ بہت ضروری ہے. کیونکہ رب کائنات نے اپنی مقدس کتاب میں بارہا دفعہ دوستی کا ذکر کیا ہے. محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شمار احادیث بیان کی ہیں..
*دوست دوست کے دین پر ہوتا ہے…*
*دوست دوست کا آئینہ ہوتا ہے…*
*اللہ کی خاطر محبت کرنے والے عرش کے سائے کے نیچے ہوں گے…*
*روز قیامت انسان اچھی دوستی پر فخر اور بری دوستی پر شرمندہ ہوگا…*
رب اور رب کے نبی ﷺ کے بے شمار فرمان دماغ میں چلنے لگے….
کیا ابھی بھی میں دوستی کو بہت معمولی سمجھوں..؟ یا بس ٹائم پاس کرنے کے لیے دوستیاں کروں..؟؟
کیا میں بھول جاؤں کہ ان دوستیوں کے بارے میں سوال ہوگا ؟؟
کیا میں دوستی کا حق ادا نہ کرکے روز قیامت رب کے حضور شرمندہ ہوکر حسرت سے اپنے ہاتھ کاٹوں؟؟؟
نہیں نہیں یارب!!! رحم یا رحمان ….بس مجھے ایسی دوست بننا ہے کہ حساب کتاب کے وقت میں اپنے دوستوں پہ فخر کروں اور وہ مجھ پہ فخر کر سکیں…

فجر کی نماز کے بعد تلاوت کرتے ہوئے سورۃ العصر کی 3 آیات نے مزید روشنی کی کرن دکھائی، جس میں عظیم رب نے زمانے کی قسم کھا کر دائمی کامیابی کے صرف 4 اصول بتائے ہیں. *ایمان، عمل صالح، آپس میں حق کی وصیت اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین*.
اس میں تیسرے پوائنٹ کو بار بار پڑھتے اور غور و فکر کرتے ہوئے سوچنے لگی کہ کس طرح اس پہ عمل کرنا ہے، کیونکہ باقی 3 اصول اس کی نسبت آسان تھے…
انسان رب کی کسی آیت پہ غور و فکر کرے اور کسی رزلٹ پہ نہ پہنچے، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا. مکنون کو بھی آخر حل مل ہی گیا.

◼◽◼◽◼◽

مکنون کی دعائیں اور دوستی، خلوص اور خیرخواہی رنگ لانے لگی.. وانیہ کو اب محسوس ہونے لگا کہ فطرت کے خلاف کام کرکے کبھی سکون نہیں مل سکتا… مکنون اب وقتاً فوقتاً کبھی کچھ کھلانے کا لالچ دے کر، یا کبھی آٹو گراف کے لالچ میں ایک موٹیویشنل اسپیکر کی پاس وانیہ کو لے کے جانے لگی.. مکنون کو یہ موٹیویشنل اسپیکر کچھ اس لحاظ سے بھی پسند تھے کہ یہ صرف دنیا جیسی عارضی زندگی کی کامیابیوں پہ بات نہیں کرتے تھے، ساتھ آخرت کو بھی بہت اہمیت دیتے تھے… اور دنیا کی بات کرتے ہوئے بھی قرآن و حدیث سے ایسے خوبصورت دلائل دیتے کہ بندے کو احساس ہوتا کہ قرآن صرف آخرت میں فائدے کے لیے ہی نہیں، بلکہ دنیا کے بھی فائدے کےلیے بھی ہے…

مکنون کی کوششوں سے وانیہ ایک قدم رب کی طرف بڑھی اور رب نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے 10 قدم اس کی طرف بڑھا کر اپنی آغوش میں لیا اور کبھی احساس تک بھی نہیں ہونے دیا کہ آخر اتنا عرصہ دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر مجھے بھولی کیوں رہی…

◼◽◼◽◼◽

“مجھےعصر کی اذان ہوتے ہی فورا جگا دینا.” ایک منٹ میں دوسری بار جب وانیہ نے یاد کرایا تو مکنون بہت حیرت اور پیاری سمائل کے ساتھ دیکھنے لگی….
“واہ ماشاء اللہ! اتنی فکر ہونے لگی ہے نماز کی..” مکنون نے خوش ہوتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا…

“ہاں وانیہ کی تم جیسی دوست ہو تو بھلا فرائض سے غفلت برت کر، رب کو ناراض کرکے جہنم میں چلی جائے؟”
“مکنون تم جیت گئی ہو، تم نے دوستی کا حق ادا کیا ہے. تم نے مجھے برائیوں کی دلدل سے نکال کے میرے رب سے مجھے ملایا ہے. میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتی…”

وانیہ نے رب کا نام لیتے ہوئے جہاں چاشنی، محبت اور لطف محسوس کیا وہاں مکنون نے روز قیامت دوستی کا حق ادا کرنے والی نیکی کو بہت خوبصورت اور جگمگاتا دیکھ کر رب کا شکر ادا کیا.

Latest news

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ مستقل نائلہ کو...

اندر باہر کا رشتہ

✒: ام مریم آمنہ نے جیسے ہی فجر کی نماز پڑھ کے سلام پھیرا تو آیان کو جاۓ نماز پر...

محبتیں زندہ رہتی ہیں!

✍? مریم خالد استاد ذوق کو کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر لگتا ہو...
- Advertisement -

رحمت کا سودا

رحمت کا سودا تحریر : خدیجہ اسحاق "رخشی آپی ....اتنی بے جا پابندیاں نہ لگایا کریں پلیز! آپ کو تو ہر...

سوال نمبر 2

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔ تین بچے ہیں۔ شوہر اور سسرال والے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں...

Must read

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم...
- Advertisement -

You might also likeRELATED
Recommended to you