تربیت اولاد بچوں کی تربیت کہانی نمبر 3

بچوں کی تربیت کہانی نمبر 3

-

- Advertisment -

بچوں کو خریداری کے اصول کیسے سکھائے جائیں
کہانی نمبر 3

ام عثمان مظہر

وہ ایک شاپنگ مال کے باہر کھڑی تھی۔ بچے خاور صاحب کے ساتھ ڈگی میں خریدا گیا سامان سیٹ کر رہے تھے جب اس کی نظر ایک چار سالہ بچے پر پڑی جو مسلسل روئے جا رہا تھا ۔۔۔ اپنی ماں سے مال کے اندر کی طرف چلنے کا اشارہ کر رہا تھا ۔۔۔
کیا ہو گیا تمہیں؟ چپ ہو جاؤ ۔۔۔ قریب کھڑا شخص جو غالباً بچے کا باپ تھا اس زور سے گرجا کہ دور کھڑی ثانیہ کو آواز صاف سنائی دی ۔۔۔

بہرحال سامان سیٹ کرنے کے بعد بچے گاڑی میں بیٹھنے کے لیے آگے بڑھے تو وہ بھی آکر اگلی سیٹ پر خاور صاحب کے ساتھ بیٹھ گئی۔

جی بیگم صاحبہ۔۔۔!! اب بتائیے کدھر جانا ہے؟ خاور صاحب ثانیہ سے اگلی منزل کا پتہ پوچھ رہے تھے۔ جی بس بچوں کے کپڑے رہ گئے ہیں باقی کام تو مکمل ہو چکا ۔۔۔

اس دن وہ ثانیہ کی کزن کی شادی کے سلسلے میں شاپنگ کے لیے نکلے تھے ۔۔۔ چند ہی منٹ بعد وہ کپڑوں کی شاپنگ کے لیے کپڑوں کی مارکیٹ میں پہنچ چکے تھے۔

زکریا ، علی اور حارث کی پینٹ شرٹس کے ڈیزائن پسند کرنے اور سائز وغیرہ کے لحاظ سے تسلی کر کے کپڑے خریدنے میں دو گھنٹے لگ گئے۔

چھوٹے دونوں بچے سخت تھک گئے تھے۔ بیٹھنے کے لیے سٹول ڈھونڈتے رہے۔۔۔ مگر شاپنگ مال والے آج کل اپنا سارا پیسہ غالباً دکانداری ہی چمکانے میں لگا دیتے ہیں ۔۔۔ گاہکوں کے لیے دو چار اسٹول خریدنے کی شائد استطاعت ہی نہیں رکھتے ۔۔۔ یا پھر شائد بیٹھنے کا انتظام نہ رکھنے سے مراد یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ آئیے ۔۔۔ رقم کھری کروائیے ۔۔۔ اور چلتے بنیے ۔۔۔
بہرحال تینوں لڑکوں کے لیے دو دو سوٹ خریدے گئے ۔۔۔

“ثانیہ! ماروی کے لیے بھی کچھ لے لو” خاور صاحب نے معصوم سی ماروی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا تو وہ بولی ۔۔۔

دیکھیے ماروی کے کپڑے اس کی خالہ سلائی کر چکی ہیں ۔۔۔ وہ اس کے لیے بہت شوق سے اکثر سلائی کرتی رہتی ہیں ۔۔۔ اس کے پاس تو بہت سے کپڑے ہیں ۔۔۔ اس کے کپڑوں کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ آہستگی سے بولی۔

اچھا چلو ٹھیک ہے بھئی ۔۔۔ خاور صاحب نے ماروی کا مطمئن چہرہ دیکھا تو ثانیہ کی ہاں میں ہاں ملا کر لڑکوں کے کپڑوں کا بل ادا کرنے کاؤنٹر کی جانب بڑھے۔

اب وہ لوگ مارکیٹ سے گاڑی کی جانب جا رہے تھے کپڑوں کے بیگز بچوں نے خود ہی اٹھا رکھے تھے۔

سب سے پہلے زکریا بولا ۔۔۔ بابا شکریہ !! جزاک اللہ خیرا ۔۔۔

اور اس کے پیچھے پیچھے حارث اور علی نے بھی یہی الفاظ دہرائے ۔۔۔ اور پھر ماروی جو باپ کا بازو تھام کر ۔۔۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے چل رہی تھی ۔۔۔ باپ کی طرف نگاہیں اٹھا کر محبت سے بولی۔
“بابا شکریہ ۔۔۔ جزاک اللہ خیرا ۔۔۔”

“بارک اللہ فیکم ۔۔۔ میرے بچو خوش رہو” خاور صاحب نے خوشگوار موڈ میں بچوں کو دعا دی۔

شاپنگ مکمل ہو چکی تھی سو وہ لوگ کچھ ہی دیر کے بعد گھر پہنچ گئے ۔۔۔ بھائیوں کے کپڑوں کی خریداری پر ماروی نے بھی باپ کا شکریہ ادا کیا۔
کتنی اچھی ہے ماروی ۔۔۔ بہت سمجھدار ۔۔۔ بہت پیار والی اور بہت صبر والی ۔۔۔

ہاں یہ صبر ہی تو تھا کہ چھوٹی سی بچی خالی ہاتھ مارکیٹ سے نکلی تو بھی اس کا دل شکر کے جذبات سے لبریز تھا۔

کھانا گرم کرتے بھی ثانیہ کے ذہن میں ماروی ہی گھوم رہی تھی۔ اور پھر تھوڑی ہی دیر بعد وہ سب کو کھانا کھلا کر جب برتن دھو رہی تھی ۔۔۔ تو اس کے خیالات کا من موجی سا پنچھی اسے انگلی لگائے تقریباً آٹھ سال پیچھے چل نکلا۔

“زکریا یہاں بیٹھیے ۔۔۔ وہ پانچ سالہ زکریا کو اپنے قریب پلنگ پر بٹھاتے ہوۓ بولی”

بیٹے آج اتوار ہے نا ۔۔۔ ہم بازار جا رہے ہیں ۔۔۔بابا کا جوتا لینا ہے اور کچھ کراکری وغیرہ خریدنی ہے۔ آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے ؟ کچھ چاہیے ۔۔۔؟

ثانیہ محبت سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول رہی تھی۔ جی نہیں اماں کچھ نہیں چاہیے ۔۔۔ وہ جلدی سے بولا۔

اچھا میرے بیٹے ۔۔۔ اب چونکہ آپ نے گھر میں کہا ہے کہ آپ نے بازار سے کچھ نہیں لینا تو پھر اب بازار جا کر بھی آپ کسی چیز کی فرمائش نہیں کریں گے ۔
دیکھیے بیٹا! چیزیں ضرورت کے لیے خریدی جاتی ہیں اور سوچ سمجھ کر خریدی جاتی ہیں ۔۔۔ آج سے آپ یہ بات یاد رکھیے گا کہ آپ کو بازار جا کر ایک دم سے کسی چیز کی فرمائش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

جس چیز کی بھی ضرورت ہو گی اس کے بارے میں گھر میں ہی مجھے انفارم کرنا ہو گا۔ اگر میں اس چیز کو ضروری سمجھوں گی تو میں آپ کے بابا کو بھی انفارم کردیا کروں گی۔

اس طرح سے جب ہم گھر سے ہی پلاننگ کر کے نکلا کریں گے تو نہ ہمیں شاپنگ کے دوران کوئی مسئلہ ہوگا اور نہ ہی غیر ضروری چیز خرید سکیں گے۔

ننھا زکریا معصوم آنکھوں سے ماں کا چہرہ دیکھے جا رہا تھا۔
دیکھیے میرے بیٹے ۔۔۔ بازار جا کر اگر کوئی کھلونا یا کوئی اور چیز خریدنے کو دل چاہے تو وقتی طور پر صبر کر لیجیے۔ اور گھر آکر مجھے انفارم کیجیے گا ۔۔۔ اگلی مرتبہ جب بازار جائیں گے تو آپ کو وہ چیز دلوا دیں گے۔

آپ بہت سمجھدار اور اچھے بچے ہیں نا ۔۔۔ تو پھر میرے بیٹے یاد رکھیے گا کہ پہلے پلاننگ کیے بغیر خریداری کرنے کے بہت سے نقصانات ہو جایا کرتے ہیں ۔۔۔ یہ تو دنیا ہے زیادہ ڈھیر ساری خوشیوں والی جگہ تو جنت ہے ناں۔۔۔!! تو پھر جو لوگ اس دنیا کو جنت بنانے کی کوشش کرتے ہیں وہ بس پریشان ہی رہتے ہیں ۔
اسی لیے میرے بیٹے پریشانیوں سے بچنے کے لیے ہی میں نے آج آپ کو یہ اصول سمجھایا ہے۔ أپ اس پر عمل کریں گے نا ۔۔۔؟
ثانیہ اب محبت سے اسے اپنی گود میں لے چکی تھی۔
“جی اماں ۔۔۔ میں ایسا ہی کروں گا۔” اس نے محبت سے ماں کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہا تو ثانیہ کو اس پھول چہرے پر بے حد پیار آیا کہ جس کی بنیادوں میں وہ پہلے دن سے ہی ایسا سبق ڈال دینے کی کوشش کر رہی تھی کہ جس کے بغیر کئی مرتبہ پوری زندگی ہی جہنم بن جایا کرتی ہے۔

اصول و ضوابط اور قوانین کو بنانا اور ان کی پاسداری کرنا، ایک ایسا عمل ہے کہ جس پر انسانی زندگی کے جس بھی شعبے میں عمل درآمد ہو جائے وہی سج جاتا ہے۔

سو اس اصول کے تحت خود بخود ہی اس کے گھر کا خریداری کا شعبہ خوبصورت ہو گیا ۔۔۔ زکریا بازار جاتا ۔۔۔ بڑوں کی مانند خاموشی سے ماں باپ کے ساتھ مارکیٹس میں گھومتا ۔۔۔ طے شدہ اشیاء خریدی جاتیں۔۔۔ اور نہایت پرسکون طریقے سے بغیر کسی بد مزگی کے شاپنگ کا عمل مکمل ہو جاتا۔

پھر وقت کے ساتھ ساتھ علی، حارث اور ماروی بھی ان کے خاندان کا حصہ بنے، ایک خاص بات یہ ہوئی کہ چھوٹے بچوں کو یہ اصول ثانیہ کو نہیں سمجھانا پڑا ۔۔۔ بلکہ اب کے یہ زکریا نے ثانیہ کے کہے بغیر ہی یہ کام سرانجام دے دیا ۔۔۔

دراصل جو بات بڑے بچے کی سمجھ میں آجائے وہ اکثر خود بخود ہی چھوٹے بچوں کے دل میں اتر کر ان کے عمل کا حصہ بن جایا کرتی ہے۔

میرے بچو۔۔۔!! دیکھیے بابا آپ کے لیے کتنی محنت کرتے ہیں۔ ہم سب گھر میں رہتے ہیں اور وہ سارا دن گھر سے باہر وقت گزارتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ اگر وہ باہر نہ جائیں تو پھر کسے جانا پڑے ۔۔۔؟؟

ثانیہ نے بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔ ہمیں ہی جانا پڑے گا ۔۔۔ علی جلدی سے بولا ۔۔۔
تو پھر ہمیں چاہیے کہ ہم ان کا خیال کریں ۔۔۔ اور ان کا کہنا مانیں۔

ٹھیک ۔۔۔؟؟ وہ آہستہ سے بولتے ہوۓ بچوں کو شکر گزاری اور قدردانی سکھا رہی تھی۔

اور پھر آج بھائیوں کی شاپنگ پر ماروی کی شکر گزاری اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب تھی۔

اماں ۔۔۔!! اماں آپ کب سے برتن دھو رہی ہیں آپ کتنا کام کرتی ہیں۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ یہ علی تھا ۔۔۔ جسے ماں برتن دھوتی تو نظر آرہی تھی مگر خیالوں کا وہ جہان، جہاں سے وہ اس کی آواز سن کر پلٹی تھی وہ اس معصوم کی آنکھوں سے اوجھل تھا۔

کوئی بات نہیں میرے بیٹے ۔۔۔ یہ تو میرے فرائض ہیں ۔۔۔ میں یہ کام خوشی خوشی کرتی ہوں۔

آپ نے اتنی اچھی دعا دی آپ کا بہت شکریہ ۔۔۔ اللہ تعالٰی آپ کو بھی خوش رکھے۔ ماں سے دعا ملنے پر علی مسکراتا ہوا باورچی خانے سے نکل گیا۔

برتن دھل گئے تھے ثانیہ بچوں کو سلانے کی تیاری کرنے لگی۔

اور پھر اگلے دن جب وہ کھانا بناتے وقت اکیلی تھی تو ذہن پھر سے کہیں دور کی اڑان بھرنے نکل گیا ۔۔۔ ثانیہ دیکھنا ذرا کونسی شرٹ بہتر رہے گی۔ وہ کپڑوں کی دکان پر تھے۔ ننھا سا زکریا ان کے ساتھ تھا ۔۔۔ جب خاور صاحب نے کچھ شرٹس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

میرا خیال ہے یہ والی ٹھیک رہے گی ۔ ثانیہ نے ایک لائٹ بلو شرٹ ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔ خاور صاحب کچھ دیر خود ہی شرٹس ٹٹولتے رہے اور پھر دو گہرے رنگ کی شرٹس پسند کر کے اوکے کر لیں۔

کسی بھی معاملے میں بس رائے دینا کافی ہوتا ہے۔ رائے دے کر اصرار کرنے اور پھر اسی کے بہتر ہونے پر مغز ماری کرنا اس بات کی نشاندہی ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی رائے پر اعتماد ہی نہیں ہے۔ شرٹس گھر آچکی تھیں ۔۔۔ پہلی ہی شرٹ جو نکلی گہرے براؤن رنگ کی تھی۔

اسے پہنتے ہی خاور صاحب ایک لمحے کے لیے رکنے پر مجبور ہوگئے ۔۔۔ یہ تو بہت ۔۔۔ ڈارک کلر ہے ۔۔۔ اگر اس کی جگہ وہی رنگ ہوتا جو ثانیہ کی پسند تھی تو کتنا اچھا ہوتا ۔۔۔ اچھا اب بھی کچھ نہیں بگڑا ۔۔۔ چینج کرلوں گا۔

براؤن شرٹ چینج کر کے وہی ثانیہ کی پسند کی ۔۔۔ ہلکے نیلے رنگ کی شرٹ اگلے اتوار کو ۔۔۔ خاور صاحب خود ہی ۔۔۔ ثانیہ کو بتائے بغیر ہی لے آئے۔

شرٹ کی تبدیلی تو ایک نقطہ آغاز تھا۔ پھر زندگی کے ہر معاملے میں یہی ہونے لگا۔
ثانیہ ایک بار رائے دیتی خاور صاحب کا جی چاہتا تو مان لیتے ۔۔۔ نہ جی چاہتا تو وہ پلٹ کر انہیں احساس بھی نہ دلاتی کہ انہوں نے اس کی رائے کو رد کیا ہے۔

وقت ۔۔۔ جس کا کام ہی پر لگا کر اڑنا ہے ۔۔۔ سبک رفتاری سے اڑتا رہا۔۔۔ اور گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ نہ جانے کس طرح خاور صاحب کی سوئی اس بات پر اڑ گئی کہ ثانیہ کی رائے ٹھیک ہوتی ہے۔

وہ رائے مانگتے، وہ آہستگی سے نرمی سے اپنی رائے دیتی ۔۔۔ اور وہ اکثر بلا چون و چرا اسی پر عمل پیرا ہو جاتے۔

واقعی رائے ٹھونسی نہ جائے
اسے دوسرے پر زبردستی لاگو نہ کیا جائے ۔ اپنی رائے کے مقابلے میں دوسرے فریق کی رائے کو ماننے کے لیے ہمہ وقت تیار رہا جائے تو خود بخود ہی آپ کے متعلقین آپ کی رائے کو بہت خاص سمجھنے لگتے ہیں۔

اور پھر حیرانگی کا معاملہ تو یہ تھا کہ خاور صاحب کی یہی سوچ وقت کے ساتھ ساتھ بچوں کی بھی سوچ بن گئی۔
وہ بچے جیسے ہی ذرا اونچے ہوئے ان کی چیز لینے کے معاملے میں بھی وہ بس رائے دینے اور زبردستی لاگو نہ کرنے کے اصول کی طرف آگئی۔ بچوں نے بس ایک دو مرتبہ ہی اپنا نقصان کیا ۔۔۔ اور پھر باپ نے شرارتی سے لہجے میں بچوں کو سمجھایا ۔۔۔ ارے میرے بچو۔۔۔!! تمہارے باپ کی زندگی کا نچوڑ ہے کہ تمہاری اماں کی رائے نہ مان کر نقصان ہی ہوتا ہے۔ تو میرا مشورہ یہ ہے کہ چپ چاپ اپنی ماں کے مشورے پر عمل کیا کرو ۔۔۔

بچے اکثر جوتے اپنی پسند کے لینا چاہتا تھے مگر ایک دو مرتبہ ہی جب انہوں نے جانا کہ وہ ٹھیک چیز select نہیں کر پائے تو خود بخود ہی ان کے ذہن باپ والے نتیجے پر پہنچ گئے۔ اماں آج میرے جوگرز لینے ہیں ناں تو پلیز آپ اپنی پسند سے لیجیے گا پلیز ۔۔۔

زکریا گھر سے نکلنے سے پہلے ماں سے درخواست کر رہا تھا۔
وہ شرارت سے بولی ۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے لیکن اگر آپ نے ذرا سا بھی کسی چیز پر اصرار کیا تو پھر میں ایک طرف ہو جاؤں گی۔

ثانیہ نے صاف لفظوں میں اسے دھمکی دی تو وہ ہاتھ جوڑ کر بولا ۔۔۔ اماں نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ پلیز ۔

اس کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر ثانیہ کے چہرے پر گہری مسکراہٹ پھیل گئی۔
ایسے ہی چھوٹے چھوٹے سنہرے اصولوں اور دعاؤں کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر ۔۔۔ زندگی کی جنگ کو خوبصورتی سے لڑنے والے اس گھرانے میں بکھرتی مسکراہٹیں دیکھ کر ۔۔۔ یوں محسوس ہوا کہ جیسے پورا ماحول ہی مسکرانے لگا ہے۔

Latest news

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ مستقل نائلہ کو...

اندر باہر کا رشتہ

✒: ام مریم آمنہ نے جیسے ہی فجر کی نماز پڑھ کے سلام پھیرا تو آیان کو جاۓ نماز پر...

محبتیں زندہ رہتی ہیں!

✍? مریم خالد استاد ذوق کو کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر لگتا ہو...
- Advertisement -

رحمت کا سودا

رحمت کا سودا تحریر : خدیجہ اسحاق "رخشی آپی ....اتنی بے جا پابندیاں نہ لگایا کریں پلیز! آپ کو تو ہر...

سوال نمبر 2

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔ تین بچے ہیں۔ شوہر اور سسرال والے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں...

Must read

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم...
- Advertisement -

You might also likeRELATED
Recommended to you