ادبیات کہانیاں تسبیحِ فاطمہؓ

تسبیحِ فاطمہؓ

-

- Advertisment -

کمرے میں بس دو ہی نفوس تھے۔ کمرہ دیکھنے میں اپنی مثال آپ تھا۔
سیون ڈی وال پیپر نے کمرے کو محل بنا رکھا تھا۔ موٹے دبیز پردے کمرے کے قالین سے میل کھاتے دیکھائی دیتے تھے۔
ایل سی ڈی پر خبریں بند آواز میں چل رہی تھیں۔ صوفہ پر فاطمہ بازو اوپر چڑھائے، ابھی ابھی کچن سے آئی بیزار بیٹھی تھی۔ دوسری جانب اس کا شوہر خرم کتاب کے مطالعے میں گم تھا۔
جتنا پرسکون خرم تھا، فاطمہ اتنی ہی بے چین دیکھائی دے رہی تھی۔
“خرم !” فاطمہ نے پکارا.
خرم نے جواباً اپنی بھویں اچکائیں۔
“بتائیں نا خرم امی سے بات کر لوں کیا؟”
فاطمہ نے موبائل پکڑا اور یبزاری سے امی کا نمبر ملاتے ہوئے کہا۔
خرم کا خواب آنے سے پہلے ہی فاطمہ کی امی نے فون اٹھا لیا۔ “کیسی ہو فاطمہ؟” سپیکر سے آواز ابھری۔
خرم نہ چاہنے کے باوجود بات سننے پر مجبور ہوگیا۔ فاطمہ نے دونوں ٹانگیں صوفے پر چڑھاتے ہوئے کہا:
“امی جی آپ کو پتا ہے میرا برتن دھو دھو کر برا حال ہو گیا ہے۔ ہاتھ خراب ہو گئے ہیں اور تو اور ناخن ٹوٹ رہے ہیں۔”
فاطمہ نے اپنے ہاتھوں کو دکھ سے دیکھا.
خرم نے فاطمہ کو حیرت سے گھورا. فاطمہ نے خرم کو نظرانداز کرتے ہوئے بات جاری رکھی.
امی جی پلیز!! آپ ماسی بشراں سے بات کر کے ان کی بیٹی یہاں بھیج دیں۔ میری الماری بھی ابتر ہو چکی ہے۔ خرم کو بھی میں استری شدہ کپڑے نہیں دے پاتی۔ وہ بھی ایسے ہی آفس چلے جاتے ہیں۔”
فاطمہ نے چور نگاہوں سے خرم کو دیکھا، جو دوبارہ کتاب میں مگن ہو چکا تھا۔
فاطمہ کی امی فکرمندی سے بولیں: ” بیٹا تم نے بتایا تھا کہ کام کرنے کے لیے ماسی موجود ہے۔ پھر کیا ہوا؟”
” جی امی ماسی ہے مگر صرف صفائی کے لیے، باقی سب خود کرنا ہوتا ہے. کپڑے دھو، استری کرو، برتن دھو، اُف! بازو شل ہو جاتے ہیں۔ آپ کو پتا تو ہے، شادی سے پہلے ماسی کی بیٹی ہی سب کرتی تھی۔”
فاطمہ نے گویا خرم کو جتاتے ہوئے کہا۔
” مجھے کام کی عادت نہیں، بہت مشکل لگ رہا ہے یہ سب. “

فاطمہ کی امی نے اس کو تسلی دی ۔۔ اس نے فون بند کرتے ہی خرم کو متوجہ کرنا چاہا. خاموشی پا کر اس کے قریب آ کر بیٹھ گئی۔
خرم نے فاطمہ کو دیکھ کر کتاب بند کی اور ہمہ تن گوش ہو گیا۔ اب بتاؤ ؟
خرم نے بڑی محبت سے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لئے.
” کیا بتاؤں؟ آپ نے سنا نہیں؟ مجھ سے نہیں ہوتا اتنا کام، میں تھک جاتی ہوں۔ یہ دیکھیں میرا موبائل. “
اس نے خرم کو موبائل پکڑاتے ہوئے کہا، یہ دیکھیں، ٩٩ میسجز پڑھنے والے ہیں، میری کتنی سیہلیاں آن لائن ہیں، میرا رابطہ تو بس نام کا ہی ہے۔۔ ہر وقت کام، کام، میرے ہاتھ درد کرتے ہیں۔ کہاں میں نازک لڑکی اور کہاں اتنی ذمہ داریاں؟؟؟
خرم نے فاطمہ کو خوب بولنے کا موقع دیا۔جب وہ خاموش ہو گئی تو اسی کے کندھے پر سر رکھ کر بولی کچھ تو جواب دیں۔
خرم نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا کیا تم فاطمہ بنت محمد ﷺ کو جانتی ہو؟ فاطمتہ الزھرہؓ رسول اللہ ﷺ کی یبٹی؟؟؟
ہاں!!! وہ بیٹی جن کی آمد پر رسول اللہﷺ کھڑے ہو جاتے تھے۔
وہ فاطمہ بنت محمدﷺ جو جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہیں۔
فاطمہ کیا تم ان کو جانتی ہو؟ہاں کیوں نہیں بھلا کون نہیں جانتا ہو گا۔ اب فاطمہ کا لہجہ نرم تھا،،،،
سیدہ فاطمہؓ کو چکی پیسنے سے بہت تکلیف ہوتی تھی۔ وہ بھی لڑکی تھیں، نرم و نازک۔ گھر کے سارے کام خود کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے ایک بار اپنے والد سے قیدی غلام مانگا، جو مال غنیمت میں آئے تھے اور رسول اللہﷺ سب کو بانٹ رہے تھے۔
لیکن جب لاڈلی بیٹی نے مانگا تو فرمایا کہ یہ دنیاوی مال اسباب تو ہمارے لئے نہیں، میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں؟؟
تم ٣٤ بار اللہ اکبر، ٣٣ بار الحمد للہ، ٣٣ بار سبحان اللہ پڑھو یہ کسی خادم غلام سے بہتر ہے.
خرم نے فاطمہ کی طرف نظر کی تو اس نے فوراً چہرہ گھٹنوں میں چھپا لیا۔
سوچو فاطمہ!
کیا اللہ کے رسولﷺ کو اپنی بیٹی سے محبت نہ تھی؟
وہ ان کے لیے ایک غلام تو کیا، غلاموں کی قطار نہیں لگا سکتے تھے؟
سب تھا میری پیاری مگر انہوں نے وہ بات بتائی جو دنیا و آخرت کے لیے مفید تھی۔ خرم کا لہجہ مضبوط تھا۔
خرم کے نرم رویے نے اس کے دل کو پگھلا دیا.
خرم میں حیران ہوں کہ مجھے اس طرح کبھی کسی نے بتایا نہیں. افسوس کہ اتنی تعلیم کے بعد بھی تسبیحات فاطمہؓ کی اصل سے محروم رہی. میں تو اسے صرف نماز کے بعد کا ذکر ہی سمجھتی رہی، اور کبھی اسے اصل روح کے ساتھ عمل کا حصہ بنانے کاسوچا ہی نہیں…
ان شاءاللہ میں اب یہی پڑھوں گی لبوں پر اب ہلکی مسکراہٹ تھی۔
لیکن خرم، پھر ہمارا یہ عالی شان گھر، اور رہن سہن؟؟ یہ بھی تو ان کی زندگیوں سے میچ نہیں کرتا نا؟؟؟
“واہ ماشاءاللہ، تم تو صرف تسبیحِ فاطمہؓ پر عمل کے خیال سے ہی، اتنا آگے تک سوچنے لگ گئیں،،،، حیرت ہے جناب!!”

“ہاں تو اورکیا، نسبت ایسے ہی تو قائم نہیں ہوسکتی نا،،، محبت تو ثبوت مانگتی ہے نا؟ “
“مان گئے بابا!! تم عورتوں کے جذبات کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا، بس ایک وژن دینے کی دیر ہے،،، دنیا کے عالی شان گھر سے چھلانگ لگا کر جنت کے محلوں کے نقشے بنانے لگ جاتی ہو،،، تم خواتین کی دھن اور ایمانی جذبوں کے آگے تو بڑے بڑے فرعون ہار گئے، اور تم اپنے رب کے پاس گھروں کی تعمیر کی دعائیں مانگنے لگ گئیں،،، واقعی تم اگر عزم کر لو تو نسلوں کو بدل کر رکھ چھوڑو،،،، “

اچھا، اب بس کیجئے، آپ بھی نا،،،،
ویسے اللہ کی رحمت کے بعد آپ کا ایمانی تعاون ملا تو ہم مل کر اپنے رب کی جنتوں میں مکان بنا سکتے ہیں،،،
ہیں نا،،، ؟؟؟
ان شاء اللہ، ان شاء اللہ!! میری کیا مجال جو میں تعاون نہ کروں،،،،
اللہ تعالیٰ آسانیاں فرمائے،،،،
آمین ثم آمین

======?======

Latest news

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ مستقل نائلہ کو...

اندر باہر کا رشتہ

✒: ام مریم آمنہ نے جیسے ہی فجر کی نماز پڑھ کے سلام پھیرا تو آیان کو جاۓ نماز پر...

محبتیں زندہ رہتی ہیں!

✍? مریم خالد استاد ذوق کو کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر لگتا ہو...
- Advertisement -

رحمت کا سودا

رحمت کا سودا تحریر : خدیجہ اسحاق "رخشی آپی ....اتنی بے جا پابندیاں نہ لگایا کریں پلیز! آپ کو تو ہر...

سوال نمبر 2

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔ تین بچے ہیں۔ شوہر اور سسرال والے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں...

Must read

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم...
- Advertisement -

You might also likeRELATED
Recommended to you