ادبیات کہانیاں جب خدشات دور ہوئے

جب خدشات دور ہوئے

-

- Advertisment -

جب خدشات دور ہوئے
عائشہ شہزاد

تینوں سہیلیاں مدتوں بعد ملی تھیں۔ شادی کے بعد کتنا کچھ بدل گیا تھا، البتہ وہ نازک سی مدیحہ دس سالوں بعد بھی اتنی ہی دلکش اور سمارٹ نظر آرہی تھی، جتنا کالج کے زمانے میں ہوتی تھی۔ دونوں دوستیں مدیحہ کی ازدواجی زندگی کے خدشات کا حقیقی رنگ سننے میں ہمہ تن گوش تھیں، جن سے کسی زمانے میں مدیحہ بہت خوفزدہ ہوا کرتی تھی۔
مدیحہ یوں گویا ہوئی… “آپ سب نے اپنے بچوں کی بات کی تو مجھے بھی بہت کچھ یاد آنے لگا۔ رخصتی کے بعد زندگی کے نئے سفر پر جب پہلا قدم رکھا
تو خوف سے ہاتھ پیر کانپ رہے تھے۔ دل میں انجانے خدشات تھے، نہ جانے نیا ہمسفر کیسا ہو گا اور پھر سسرال والے؟ کتنی خوفناک منظر کشی تھی۔
لیکن وقت گزرتے سارے خوف ختم ہو گئے۔ وقت اتنا خوبصورت گزرا کہ مہینے سال میں بدل گئے اور ننھا منا شہزادہ گود میں کلکاریاں مارنے لگا۔

دل میں پھر خطرات منڈلانے لگے جب یہ خیال آیا کہ نہ جانے اس ننھے منے کو کیسے سنبھالنا ہے؟ اکثر کہانیوں میں یہی ہوتا ہے کہ بچے نے پیدائش کے بعد بہت تنگ کیا۔ شوہر اور سسرال والے بچے سنبھالنے میں بالکل ساتھ نہیں دیتے۔ میری کہانی اس سے بالکل الٹ نکلی۔ یاد ہے تم لوگوں کو، میں کتنی چست ہوا کرتی تھی، سکول کے کھیلوں میں حصہ لینا، پڑھائی سے زیادہ کھیلوں پر توجہ دینا، گھر آ کر بھی ایک منٹ ٹک کر نہیں بیٹھتی تھی، گھر کے کام تو کوئی مسئلہ ہی نہیں لگتا تھا۔
ساتویں جماعت میں تھی تب میری امی کے پاؤں کا آپریشن ہوا تھا اور وہ گھر کا کوئی کام نہیں کر سکتی تھیں۔ بس تبھی سے گھر کی اچھی خاصی ذمہ داریاں مجھ پر آ گئی تھیں۔ یہاں تک کہ ہانڈی روٹی بھی میں ہی کرتی تھی۔
مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے، ایک جون کی دوپہر میں باورچی خانے میں روٹیاں بنا رہی تھی کہ کچھ مہمان عورتيں امی کی خیریت لینے گھر آ گئیں۔ کچن برآمدے میں ہی تھا اور وہ عورتيں بآسانی مجھے روٹی پکاتے دیکھ سکتی تھیں۔
وہ اتنی حیرت زدہ تھیں اور بار بار امی کو یہی کہتیں، ”ہاۓ خالہ اتنی سی بچی پر ظلم کر رہی ہو۔ “
خیر امی نے انھیں جھڑک دیا یہ کہہ کر کہ بچوں کو اپنا محتاج بنانے کی بجائے ہر ماحول اور حالات سے سامنا کرنا سکھانا چاہیے، چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔
میری امی ایسی ہی تھیں۔
ایسا نہیں کہ وہ خود کوئی کام نہیں کرتی تھیں لیکن وہ ہم پر بھی اتنی ذمہ داری ضرور ڈالتی کہ ہم فضولیات سے بچے رہیں۔
خیر بات ہو رہی تھی بچوں کی تو یہ سب میں نے اس لیے بتایا کہ مجھے میرے پہلے بیٹے کی پیدائش سے پہلے سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ تھا کہ سنبھل کر چلوں تو کیسے؟ مجھے تو چلنے کی نہیں دوڑنے کی عادت تھی۔ اور بیٹھتے ہوئے آرام سے بیٹھنا۔ اففففف میں تو ان میں سے تھی، جو سکول میں دوڑ کی ریس میں ہمیشہ پہلی پوزیشن لیا کرتی تھی۔ ہمارا سیکنڈ ائیر کا رزلٹ ابھی آیا نہیں تھا کہ ابو جان نے شادی بھی سترہ سال کی عمر میں کر دی۔
“ہاں اور تم کتنا رویا کرتی تھیں ناں تب؟ “
دونوں ایک ساتھ بولیں تو مدیحہ کھلکھلا اُٹھی۔

اور پھر اللّٰہ تعالٰی نے شادی کے بعد کے پہلے مہینے میں ہی خوشخبری کی نوید دے دی۔
اکثر عورتيں میری خوش نصیبی پر رشک کرتی تھیں۔ لیکن مجھے کبھی یہ رشک والی بات نہیں لگی تھی۔ ان نو مہینوں کے دوران چلتے ہوئے مجھے کوئی نہ کوئی ٹوک ہی دیتا تھا اور میں ہمیشہ جھلا جاتی تھی۔
ان تمام روک ٹوک کے باوجود گھر کے کام بھاگ دوڑ کر کرنے کی عادت نہیں چھوٹتی تھی۔
مجھے اپنا بھاری بھر کم وجود بہت برا لگتا تھا۔

انسان نا شکرے پن میں اللّٰہ کی نعمتوں کو بھی زحمت سمجھ بیٹھتا ہے، آج میں اپنے وہ ناشکرے رویے کو سوچتی ہوں تو آنکھ سے نیند اڑ جاتی ہے اور بےاختیار پیشانی سجدے میں جھک جاتی ہے۔ دل استغفار کی تسبیح کرنے لگ جاتا ہے۔
میری ساری الٹی حرکتوں کے باوجود اللّٰہ کے خاص کرم سے اور بالکل نارمل ڈیلیوری کے ساتھ میرا پہلا شہزاده میری گود میں تھا۔ وہ ننھا منا سا وجود میری زندگی میں اتنی روشنیاں بھر دے گا میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔
گھر بھر کا لاڈلہ، اپنے دادا دادی کی آنکھ کا تارا!! وہ ایک منٹ اپنے پوتے سے دور نہیں رہتے تھے۔
سارے گھر والے ہر وقت بس یہی پوچھتے رہتے کہ شہزادہ میاں کیا کر رہے ہیں؟ اسے دودھ پلایا؟ اسے پیاس تو نہیں لگی ہوگی؟ جولائی کی پیدائش تھی جناب کی تو دادی کو بڑی فکر رہتی تھی کہ کہیں پوتے کو پیاس نہ لگی ہو۔ بچےکی تو خوراک کا ذریعہ میں تھی اس لئے سب میرے آگے پیچھے کچھ نہ کچھ لے کر آ جاتے۔ جو کہ جب تک ختم نہ ہوتا تو خاص کر ساس امی اور میاں صاحب ہلتے ہی نہیں تھے کھلا کر ہی دم لیتے تھے تاکہ ہر دو گھنٹے بعد بچے کی دودھ کی ضرورت کو پورا کیا جاسکے۔

مجھ سےکہیں زیادہ منے میاں کی خوراک، دودھ، پانی کی ذمہ داری اس کے دادا کی ہوتی۔ اس کا زیادہ وقت دادا دادی کے ساتھ ہی گزرتا تھا اور بنا کچھ کہے، ہر دو گھنٹے بعد سسر ابو خود ہی اسے میری گود میں دے جاتے۔ اکثر بچوں کی مائیں کہتی ہیں ہمارا بچہ سوتا ہی نہیں تھا ساری رات تنگ کرتا تھا اور بیچاری مائیں ساری ساری رات پریشان، اکیلی گود میں لیے چکر کاٹتی رہتی ہیں لیکن ہمارے گھر کا معاملہ بالکل ہی الٹ تھا، منے میاں اپنے وقت سے کچھ لمحے زیادہ سوتے، وہ جتنا وقت سوتا تو بار بار گھر کے ہر فرد کا یہی سوال ہوتا، شہزادہ کب اٹھے گا؟؟

مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میں کبھی اسے ساری رات گود میں لیے پریشان ہوئی ہوں۔ دادا دادی اور اپنے بابا جانی کی گود میں میرے بچے اسی طرح پلے ہیں کہ نہ انھیں کبھی کسی دوست کی ضرورت پڑی اور نہ ہی گھر سے باہر نکلنے کی۔ دادا کی شفقت میں رہ کر تربیت اتنی اچھی ہوئی کہ آج جو بھی بیٹے سے ملتا ہے تو تعریف کیے بنا نہیں رہتا اور تو اور کتنا سنتی ہوں لوگوں سے کہ بچوں کے سکول کی فیس کے ساتھ ٹیوشنز کی فیس انتہائی اذیت میں مبتلا رکھتی ہے۔ ماں باپ اپنا پیٹ کاٹ کر یہ فیسیں ادا کر رہے ہیں۔ یہاں دادا دادی کی شفقت میں رہتے یہ مسئلہ بھی اتنی آسانی سے سلجھتا گیا کہ آج ماشاءﷲ میرا بڑا بیٹا نویں جماعت کا طالب علم ہے لیکن ہمارا ایک روپیہ بھی کبھی ٹیوشنز کی نذر نہیں ہوا اور نہ ہی باقی کے دو بچوں کی فیسیں دینی پڑیں۔
دراصل دادا دادی باقی سارے کام کر دیا کرتے تھے بچوں کے تو میرے پاس بہت وقت ہوا کرتا تھا۔ بچوں کی پڑھائی پر پوری توجہ دینے کا۔”

لیکن مدیحہ، جوائنٹ فیملی میں کیسے گزارا کیا؟؟
” ایسے ہی جیسے شادی سے پہلے، مختلف مزاج والے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ اکثر عورتيں جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنا پسند نہیں کرتی ہیں۔ ٹھیک ہے کہ اختلافات ہر گھر میں ہوتے ہیں میرے گھر میں رہنے والے کوئی فرشتے نہیں تھے سب انسان ہی تھے۔ اور میں بھی انسان ہی تھی غلطیاں مجھ سے تو بہت ہوتی تھیں اور باقی کے گھر کے افراد بھی بہت کچھ ایسا کر دیا کرتے تھے کہ میری آنکھوں سے بھی آنسو چھلک جایا کرتے تھے، اختلافات اپنی جگہ لیکن آپ کے اختلافات کا اثر بچوں کی تربیت پر ہرگز نہیں پڑنا چاہیے۔
یہ ذمہ داری صرف بہو کی نہیں ہوتی ہے کہ وہ سسرال والوں کی اور شوہر کی کسی بات سے اختلاف ہونے کے باوجود خاموشی اختیار کیے رکھے۔
بلکہ سسرال والوں کو اور خاص کر شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے تاکہ گھر کا ماحول بچوں کی تربیت کے لیے سازگار رہے۔
اور بہو کو بھی سسرال والوں کی عادات کو سمجھتے ہوئے بہت سے معاملات میں خاموشی اختیار کر لینی چاہیے اگر دنیا اور آخرت دونوں کا مفاد چاہیے۔
ورنہ دنیا تو ہے ہی فانی۔
دنیا میں اگر سزا سے بچ بھی گئے تو آخرت میں اس رب ذوالجلال کی پکڑ سے کیسے بچ سکو گے۔ انسان کے صرف نیک اعمال ہی دنیا میں ایسے ہیں جن کی وجہ سے انھیں اچھے الفاظ میں یاد کیاجاتا ہے۔

آج میرے ساس اور سسر دونوں ہی دنیا میں نہیں ہیں لیکن میں ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے چار سال بعد بھی اچھے الفاظ میں یاد کرتی ہوں۔ اللّٰہ پاک نے مجھ پر بہت کرم کیا جو مجھے اتنے خوبصورت رشتے دیئے جنھوں نے اپنی قدر بھی کروائی اور میری تو بے انتہا قدر کی۔
یہ میری زندگی کے انمول رشتے تھے جو آج اللّٰہ کی رضا سے میری زندگی میں نہیں ہیں لیکن میں آج بھی دعا کے لیے جب بھی ہاتھ اٹھاتی ہوں تو
بے اختیار ان کی بخشش کی دعائیں نکلتی ہی چلی جاتیں ہیں۔ اللّٰہ پاک انھیں جزاۓ خیر دے۔ ان کے میرے ساتھ حسن سلوک کا بہترین صلہ آخرت میں جنت الفردوس کی صورت عطا فرماۓ، آمـــین۔”

“امی جان! کھانا لگا دیا ہے، آپ سب جلدی سے آجائیں”، مدیحہ کی بارہ سالہ پیاری سی بیٹی کی جب یہ آواز سنی تو اس سے پہلے کہ زبان پر مدیحہ کے بچپن کے واقعہ والی پڑوسی خواتین کی بات آتی، دونوں سہیلیاں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا اُٹھیں، اور سب اللّٰہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کھانے کے لئے اُٹھ کھڑی ہوئیں۔

Latest news

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ مستقل نائلہ کو...

اندر باہر کا رشتہ

✒: ام مریم آمنہ نے جیسے ہی فجر کی نماز پڑھ کے سلام پھیرا تو آیان کو جاۓ نماز پر...

محبتیں زندہ رہتی ہیں!

✍? مریم خالد استاد ذوق کو کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر لگتا ہو...
- Advertisement -

رحمت کا سودا

رحمت کا سودا تحریر : خدیجہ اسحاق "رخشی آپی ....اتنی بے جا پابندیاں نہ لگایا کریں پلیز! آپ کو تو ہر...

سوال نمبر 2

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔ تین بچے ہیں۔ شوہر اور سسرال والے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں...

Must read

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم...
- Advertisement -

You might also likeRELATED
Recommended to you