ادبیات کہانیاں رحمت کا سودا

رحمت کا سودا

-

- Advertisment -

رحمت کا سودا

تحریر : خدیجہ اسحاق

“رخشی آپی ….اتنی بے جا پابندیاں نہ لگایا کریں پلیز! آپ کو تو ہر چیز میں کیڑے نظر آتے ہیں۔ میرا ہر کام غلط لگتا ہے۔
اب بالوں کی کٹنگ اور آئی بروز میں بھی آپ شریعت کو گھسیٹ لائی ہیں۔”
دانیہ نے زچ ہوتے ہوئے ماتھے پہ بل ڈال کے آپی کو گھورا-

“جو کام شریعت کےخلاف ہوگا اس کو حرام ثابت کرنے کے لیے شریعت کو ہی لاؤں گی ناں یا تمہارے کیمسٹری، فزکس کے نومیریکلز کو لے کر آؤں؟؟”
رخشی آپی نے اسی کی ٹون میں جواب دیا۔

“لیکن آپی…….. آپ یہ بھی تو دیکھیں، میں دانیال کی خاطر یہ سب کر رہی ہوں۔
اسی کی خواہش ہے کہ میں آئی بروز بنواؤں، کٹنگ کراؤں، جب لمبے بالوں کی خواہش ہو تو بس وگ لگا لوں۔ میرا شوق ہوتا تو میں شادی سے پہلے ہی یہ سب کرتی۔”

“کرنے کو تو آپ ضرور کرتیں، وہ تو آنٹی جمیلہ نے شادی سے پہلے اتنی ڈھیل دی ہی نہیں تھی کہ آپ اس بارے میں سوچتیں۔
اب بھی خواہش تمہاری اپنی ہی ہے۔ بس دانیال کو پُل بنا کے اپنی خواہشات پوری کرنا چاہتی ہو۔”

“نن…نہیں …ایسا نہیں ہے .. سچی، یہ تو انہوں نے کہا ہے۔”
دل کی چوری پکڑے جانے پر دانیہ ایک دم گڑبڑا گئی۔

“اچھا چلو چھوڑو، یہ بتاؤ یہ رِنگ کب بنوائی؟
بہت پیاری ہے۔”
رخشی نے ایک دم عنوان بدلتے ہوئے کہا۔

“یہ ڈائمنڈ رِنگ ہے۔ آپ کو تو پتہ ہے میری خواہش تھی کہ منہ دکھائی میں دانیال ڈائمنڈ رنگ گفٹ کریں۔ جب گولڈ کی رِنگ گفٹ کی تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگا۔ میں نے ضد شروع کر دی کہ بس ولیمے سے پہلے ڈائمنڈ رنگ چاہیے تاکہ میں ہانی کی شوخی ختم کرسکوں۔ یاد ہے نا……….ڈائمنڈ رنگ ملنے پہ وہ کیسے اترا رہی تھی- جب اس کے مقابلے میں مٙیں گولڈ کی رِنگ دکھاتی تو وہ ضرور میرا مذاق اڑاتی۔”
دانیہ نے نفرت آمیز انداز میں کہا۔۔

“پھر کیسے بنوائی؟”
رخشی نے پوری توجہ سے بات سنتے ہوئے سوال کیا۔

“بس میں نے دانیال کی منتیں لاڈ پیار سے شروع کر دیں۔ جب لگا کہ شادی پہ زیادہ خرچہ ہونے کی وجہ سے ان کا فی الحال بنوانے کا موڈ نہیں تو رونے کی ایکٹنگ کی۔ ان کو خوش کرنے کے لیے ہر قسم کے وعدے کیے کہ ساری زندگی ان کی بات مانوں گی۔ آنسو دیکھ کے تو ان سے رہا ہی نہیں گیا۔ شکر ہے ولیمہ ایک روز بعد تھا اور آخرکار ادھار لےکر رِنگ بنوا دی۔”

“ڈائمنڈ رِنگ کےلیے تو تم نے دانیال کی اتنی منتیں، سماجتیں اور وعدے کیے۔ جب انہوں نے آئی بروز، کٹنگ اور وگ کا کہا تو اس وقت بھی کچھ منوانے کی کوشش کی؟”
رخشی آپی نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

“کیا مطلب … کیسی کوشش؟؟؟؟”
دانیہ ناسمجھی والے انداز میں بولی۔

“یہی کہ تم اچھی طرح جانتی ہو۔ آئی بروز بنوانے والی عورت پہ اللّٰہ کی لعنت ہوتی ہے۔ وگ لگانا حرام ہے۔ بلاوجہ فیشن کے لیے کٹنگ اور وہ بھی جس سے غیر مسلم کی مشابہت ہو گناہ ہے۔ ان حرام کاموں سے بچنے کے لیے کتنی کوشش کی؟؟؟ دانیال کی کتنی منتیں سماجتیں کیں؟؟؟ کس طرح ان کو قائل کیا؟؟؟؟ کیا طریقے اختیار کیے؟؟؟؟

“بس میری تو خواہش ہے اپنے شوہر کو اچھی لگوں۔ شوہر کے لیے بننے سنورنے کا حکم تو اسلام دیتا ہے نا آپی؟؟؟؟”
دانیہ سے جواب نہ بن سکا تو الٹا سوال داغ دیا۔

“جی بالکل اسلام حکم دیتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ شوہر کی اطاعت میں رب کی نا فرمانی کے کام کیے جائیں۔ آج کل ہر وہ عورت جو اپنے نفس کی غلام ہے، حرام کاموں کی توپ شوہر کے کندھوں پہ رکھ کے چلانا چاہتی ہے۔ حقیقت میں شیطان اس کا غلط عمل اس کو مزیّن کر کے دکھا رہا ہوتا ہے اور وہ نادان شوہر کی اطاعت کا خوبصورت لیبل لگا کے رب کی نافرمانی کر کے اپنے لیے جہنم خرید رہی ہوتی ہے۔
ایک مومنہ عورت دنیاوی خواہشات کی بجائے دین کے خلاف کام میں اسٹینڈ لیتی ہے۔ اس سے بچنے کےلیے شوہر کو ہر طرح سے قائل کرتی ہے۔ تم دو ٹکے کی چیزوں کے لیے رو دھو کے، منتیں سماجتیں کر سکتی ہو تو کیا رب کی لعنت والے کاموں سے بچنے کے لیے ان کو قائل نہیں کرسکتیں؟؟؟؟”

“آپی……. میری تو بس یہ خواہش تھی کہ میں دانیال کو اچھی لگوں ….”
دانیہ نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا۔

“دانیہ اگر تمہاری یہ سوچ ہے کہ لعنت والے کام کر کے تم اچھی لگو گی تو یہ تمہاری بھول ہے۔ آئی بروز بنوانے والی عورت بہت چالاک اور مکار لگتی ہے۔ ساری معصومیت ختم ہو کے رہ جاتی ہے۔ ذرا کبھی غور سے اس لڑکی کو دیکھنا جس نے کبھی آئی بروز نہ بنوائی ہوں اور پھر ایک دم وہ بنوالے تو بہت عجیب اور اپنی عمر سے بڑی لگنے لگتی ہے .. بھلا جس کے اوپر لعنت ٹپک رہی ہو کیا وہ پیاری، باحیا اور معصوم لگ سکتی ہے؟؟”
دانیہ غور سے سنتے ہوئے ایک دم چونکی۔

“اب تو ہماری میڈیکل سائنس بھی یہی کہتی ہے کہ پلکنگ کروانے والی عورتیں سر کی خطرناک بیماریوں کا شکار ہوسکتی ہیں۔ ایک ایک بال نوچ کے صرف اسی وقت خود کو اذیت نہیں دیتیں بلکہ بہت دور رس نقصان بھی اٹھاتی ہیں۔
اگر ان کاموں کو کر کے عورت اچھی لگتی اور اس میں فائدہ ہوتا تو رب کبھی پابندی نہ لگاتا۔ رب کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں۔
اسی طرح وگ میں سراسر دھوکہ ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی آخر دوسروں کو دھوکے میں رکھ کے کیا تسکین ملتی ہے۔
یاد رکھو، شوہر کی اطاعت سے پہلے اللّٰہ کی اطاعت فرض ہے۔ جس تن کو حرام کاموں سے سنوار کے شوہر کو اچھی دکھنا چاہتی ہو، کل اس تن کو مٹی کھا جائے گی۔
اس من کو سنوارو جس کو لےکر کل اللّٰہ کے حضور تم نے حاضر ہونا ہے۔”

“سوری آپی …”
نجانے کب ندامت کے آنسو آنکھوں سے نکل کے دانیہ کے گالوں پر لمبی لکیر بنا گئے …
” قصور واقعی میرا ہے۔ مرد تو عورت کے دو آنسو سے پگھل کے ہر غلط صحیح بات کو مان لیتا ہے۔ میں نے دانیال کو قائل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اس کو تو شاید احادیث معلوم ہی نہیں۔ مجھے یقین ہے جب میں ان کو بتاؤں گی کہ یہ رب کی رحمت سے دور کرنے والے کام ہیں تو ضرور ان کو سمجھ آجائے گی اور ساتھ ساتھ دعا بھی کروں گی کہ اللّٰہ ان کا دل حرام کاموں سے پھیر دے۔ کیونکہ انسان کا دل تو رحمان کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے اور ہدایت کی دعا کرنے پر ہدایت ضرور ملتی ہے۔”

رخشی آپی نے سر ہلا کے دانیہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پیار سے دباتے ہوئے دل ہی دل میں اللّٰہ کا شکر ادا کیا۔

حقیقت کے عیاں ہونے پہ تھوڑی ہی دیر میں دانیہ کو آئی بروز بنوا کے حسین لگنے کا خواب اب بہت بھیانک لگ رہا تھا۔
بیگ اٹھا کے رخشی آپی سے پارلر جانے کی ضد کیے بغیر بہت اطمینان سے گھر جانے لگی کیونکہ اب وہ رب کی لعنت کی بجائے رحمت کا سودا کر چکی تھی اور یہ بالکل گھاٹے کا سودا نہیں تھا۔

Latest news

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ مستقل نائلہ کو...

اندر باہر کا رشتہ

✒: ام مریم آمنہ نے جیسے ہی فجر کی نماز پڑھ کے سلام پھیرا تو آیان کو جاۓ نماز پر...

محبتیں زندہ رہتی ہیں!

✍? مریم خالد استاد ذوق کو کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر لگتا ہو...
- Advertisement -

رحمت کا سودا

رحمت کا سودا تحریر : خدیجہ اسحاق "رخشی آپی ....اتنی بے جا پابندیاں نہ لگایا کریں پلیز! آپ کو تو ہر...

سوال نمبر 2

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔ تین بچے ہیں۔ شوہر اور سسرال والے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں...

Must read

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم...
- Advertisement -

You might also likeRELATED
Recommended to you