ادبیات کہانیاں سلامتی کے ستون

سلامتی کے ستون

-

- Advertisment -

ام محمد عبداللہ

یہ کالے سیاہ اونچے اونچے پہاڑوں کا علاقہ تھا۔ سورج کو ڈوبے وقت گزر چکا تھا۔ رات اپنے ہی اندھیرے سے شرما رہی تھی۔ آسمان پر نہ تو چاند کا بسیرا تھا اور نہ ہی کہیں ستارے جھلملا رہے تھے۔ ہر طرف سیاہ تاریکی کا راج تھا۔ ان پہاڑوں کے مکین کوئی انسان نہیں بلکہ جن تھے۔ جن بھی ایسے ویسے نہیں ظالم جن۔ کہیں اپنے نفسوں پر ظلم کرتے اور کہیں اپنے ہم نفسوں پر۔
دن بھر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہنے کے بعد یہ شریر آبادی نیند کی پرسکون آغوش میں تھی۔
ننھا زردوس جن بھی اسی آبادی کا حصہ تھا لیکن وہ سو نہیں رہا تھا۔ بستر پر بےچین کروٹیں لیتے لیتے جب وہ بہت تھک گیا تو اٹھ کر صحن میں ٹہلنے لگا۔
“کیا ہوا زردوس بیٹے؟” یہ اس کے دادا جن تھے جو اس کے ٹہلنے سے اٹھ گئے تھے۔
“دادا جان! میں بہت پریشان ہوں۔ ہماری بستی میں ہر طرف بدامنی، بے چینی اور افراتفری کا راج ہے۔ کیا اس سب کا کوئی حل نہیں؟ کیا یہ ظلم یونہی چلتا رہے گا؟” جن دادا نے دیکھا وہ بہت دکھی تھا۔

“آپ کو پتہ ہے جن دادا! میں کل سیر کرتے کرتے دور نکل گیا۔ وہ انسانوں کی کوئی بستی تھی۔ وہاں بہت سکون تھا، نظم و ضبط تھا، چین اور امن تھا۔ میرا دل چاہا ہم جن بھی ایسے ہی رہنے لگیں۔ کیا یہ ممکن ہے جن دادا؟”
جن دادا کچھ دیر سوچتے رہے پھر بولے:
” ٹھیک ہے، ہم دونوں مل کر اس بستی میں جائیں گے اور معلوم کریں گے کہ وہاں چین اور امن کیسے قائم ہے؟” جن دادا مسکرائے تو ننھا جن بھی مسکرا دیا۔

➖➖➖

ابھی سورج طلوع نہ ہوا تھا۔ ماحول پر تاریکی چھائی تھی۔ پرندے اپنے اپنے گھونسلوں میں دبکے ہوئے تھے کہ اچانک اک صدا بلند ہوئی:
اللہ اکبر۔۔ اللہ اکبر۔۔ لا الہ الا اللہ زردوس اور جن دادا نے ایک دوسرے کو حیران ہو کر دیکھا۔ وہ رات کے تیسرے پہر اس بستی میں پہنچے تھے کہ یہاں کے امن و سکون کی وجہ جان سکیں۔ ابھی وہ اس صدا پر حیران ہی ہو رہے تھے کہ بستی کہ ہر گھر کا دروازہ کھلا اور لوگ طمانیت اور وقار سے چلتے ہوئے مسجد کا رخ کرنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اقامت ہوئی، صفیں منظم ہوئیں اور نماز ادا ہونے لگی۔ باجماعت نماز کا روح پرور منظر اور قرآن پاک کی دلنشیں تلاوت، زردوس جن آنکھیں پھاڑے سوالیہ انداز میں جن دادا کو دیکھنے لگا۔
نماز ادا ہو چکی تو چند بچے ایک چبوترے پر بیٹھ کر پڑھنے لگے۔ معلم انہیں بتا رہا تھا۔
“پیارے بچو!!
اسلام کا پہلا رکن توحید و رسالت ہے۔ توحید ورسالت کا اقرار دو حصوں پر مشتمل ہے۔ حصہ اول’’ توحید ‘‘کہلاتا ہے یعنی دل اور زبان سے اس بات کا اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔زندگی اور موت کا وہی مالک ہے۔ اولاد دینے والا، رزق پہنچانے والا اور نفع و نقصان کا وہی مالک ہے۔ صرف وہی مختارِ کُل ہے باقی سب عاجز بندے ہیں۔ کوئی نبی، ولی، فرشتہ یا بزرگ اللہ کی ذات یا صفات اور حقوق و افعال میں اس کا شریک و ہمسر نہیں۔ وہ اپنی ذات کی طرح صفات میں بھی یکتا ہے۔ توحید کے برعکس عقیدہ کو شرک کہا جاتا ہے۔

اسلام کے پہلے رکن کا دوسرا حصہ ’’رسالت‘‘ کہلاتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی راہنمائی کے لئے ہر زمانہ میں انبیاء و رُسُل مبعوث فرمائے. یہ سلسلہ سيدنا آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور محمد ﷺ اس سلسلہ کی آخری کڑی ہیں۔ آپ ﷺ قیامت تک کے تمام انسانوں کے لئے نبی و رسول بن کر آئے۔ آپ ﷺ کے بعد اب قیامت تک کوئی نبی و رسول نہیں آئےگا۔ اگر کوئی نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے تو وہ کاذب، دجال ہے اور اس کو ماننے والا کافر مرتد ہے۔

ننھے جن اور جن دادا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، بات ان کی سمجھ میں آرہی تھی۔
وہ دونوں مسجد سے نکل کر باہر آگئے۔ انہوں نے دیکھا گھروں میں خواتین بھی نماز ادا کر رہی تھیں۔ “جن دادا یہ ان کی عبادت نماز ہے ناں؟
مسجد میں نظم و ضبط سے باجماعت نماز پڑھتے یہ کتنے باوقار لگ رہے تھے۔ نماز کے متعلق آپ کچھ جانتے ہیں جن دادا؟” زردوس نے پوچھا۔
وہ اس وقت بستی کے گھروں کی چھتوں پر اڑ رہے تھے۔ نہیں میں تو کچھ خاص نہیں جانتا مگر آؤ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ گھروں سے ہوتے ہوئے ایک سکول کے سامنے آن پہنچے تھے۔ وہ سکول کے مرکزی دروازے سے داخل ہوئے اور گھومنے لگے۔ وہ کسی کو بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے مگر انہیں سب نظر آرہا تھا اور سنائی دے رہا تھا۔
ایک کمرہ جماعت سے کسی معلمہ کے پڑھانے کی آواز آ رہی تھی۔
“میرے بچو! ہم کلمہ گو مسلمان ہیں. ہم پر نماز کا فریضہ عائد ہے۔ ہمیں دن میں پانچ مرتبہ مختلف مقررہ اوقات میں پاک صاف ہو کر اپنے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اس کے سامنے کھڑے ہو کر، بیٹھ کر، جھک کر، زمین پر سر ٹیک کر اپنی بندگی کا اقرار کرنا ہے۔ اس سے مدد مانگنی ہے، ہدایت طلب کرنی ہے، اس کی اطاعت کا عہد تازہ کرتے رہنا ہے، اس کی خوشنودی چاہنے اور اس کے غضب سے بچنے کی خواہش کا بار بار اعادہ کرنا ہے، اس کی کتاب یعنی قرآن حکیم کا سبق دہراتے رہنا ہے۔ اس کے رسول حضرت محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی سچائی پر گواہی دینا اور یوم آخرت کو بھی یاد کرتے رہنا ہے کہ جس دن اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضری پر ہمارا اعتقاد ہے۔ یہی ہماری نماز ہے اور یہی ہماری نماز کا مقصد کہ ہم اپنے اللہ کو یاد کرتے رہیں.” معلمہ نے نماز سے متعلق بچوں کو آگاہی دی اور ان سے ہمیشہ نماز قائم رکھنے اور اس کی حفاظت کرنے کا عہد لیا۔ زردوس جن نے جن دادا کی جانب دیکھا۔
“دادا! جب یہ دن میں اتنی مرتبہ اللہ کو یاد کریں گے اور اپنے ہر عمل پر جوابدہی کا سبق دہرائیں گے تو بھلا یہ برے کام کیسے کریں گے؟” زردوس جن کی گول گول لال آنکھیں چمک رہی تھیں۔
“میرا پوتا بہت ذہین ہے۔” جن دادا نے اس کی کمر تھپتھپائی۔ وہ خود بھی یہ ہی سب سوچ رہے تھے۔ سکول میں چھٹی ہو گئی تو وہ ایک بار پھر ہوا میں اڑتے بستی کی سیر کرنے لگے۔
” آئیں دیکھتے ہیں اس گھر میں لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں۔”
وہ دونوں ایک گھر کے صحن میں اتر آئے۔ صحن کے ایک طرف لگے بیری کے درخت پر بیٹھ کر وہ گھر والوں کی باتیں سننے لگے۔
صحن میں ایک طرف تمام اہل خانہ گفتگو میں مشغول تھے۔
“اللہ کا شکر ہے اس نے ہمیں صاحب حیثیت بنایا. اس قابل کیا کہ ہم اس کی راہ میں خرچ کر سکیں۔ ہمارے دلوں میں مال کی نہیں اللہ تعالی کی محبت ہے۔ میرے پاس ساڑھے سات تولہ سونا جبکہ بہو کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی ہے۔ آپ اپنی فصل اور مال مویشی کا حساب بھی لگا لیں اور جلد از جلد اس سال کا فریضہ زکوٰۃ ادا کر دیں تاکہ یہ دولت صرف ہمیں تک محدود ہو کر نہ رہ جائے۔”
سفید کپڑوں میں ملبوس یہ اس خاندان کی بزرگ خاتون تھیں جو گھر کے مَردوں کی توجہ روز مرہ معاملات سے ہٹا کر فریضہ زکوٰۃ کی جانب کروا رہی تھیں۔
“زکوٰۃ کیا ہوتی ہے دادی جان؟” ان کے گھٹنے سے لگا بیٹھا گول مٹول سا ان کا پوتا پوچھنے لگا۔

” بیٹے زکوٰۃ کا لغوی معنی نشو و نما اور پاک کرنا ہے۔ جو لوگ صاحب حیثیت ہوں ان پر اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے کہ وہ اپنی دولت میں سے مخصوص حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔” ان معمر خاتون نے پیار سے بچے کو سمجھایا۔
“جی امی جان! ہمارے رشتہ داروں اور اردگرد کے لوگوں میں تو زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں مگر قریبی گاؤں میں دو یتیم بچے ہیں جن کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں۔ ان شاءاللہ زکوٰۃ کی رقم سے میں انہیں نقدی اور اناج کے علاوہ بکریوں کا ایک جوڑا دوں گا۔ ان شاءاللہ بکریوں کی افزائش سے کچھ ہی عرصے بعد وہ زکوٰۃ لینے والوں میں نہیں بلکہ دینے والوں میں شمار ہونے لگیں گے۔”
ان کے بیٹے نے ادب سے جواب دیا۔

جن دادا اور زردوس منہ کھولے اور حیرت سے آنکھیں پھاڑتے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ان کی بستی میں تو سود، لوٹ کھوسٹ اور جائز و ناجائز طریقہ پر مال ہتھیانے کا رواج تھا۔ یہ کون لوگ تھے جو اپنا مال احساس ذمہ داری اور خوشی کے ساتھ کمزوروں کو دینے جا رہے تھے؟

رات ہو چکی تھی. زردوس اور جن دادا اپنے کالے پہاڑوں میں لوٹ آئے مگر ان کا دل اسلام کی بستی ہی میں رہ گیا تھا۔ وہ اکثر کلمہ توحید و رسالت، نماز اور زکوٰۃ پر باتیں کرنے لگے تھے۔

“جن دادا آئیں! اسلام کی بستی میں جاتے ہیں۔ وہاں کتنا سکون تھا ناں۔”
چند دنوں بعد ننھے جن نے فرمائش کی اور وہ دونوں ایک بار پھر اسلام کی بستی میں آن موجود ہوئے۔
“جو شخص صاحب استطاعت ہو، یعنی اپنے اہل وعیال اور زیرِ کفالت اشخاص کی جملہ ضروریات پوری کرنے کے بعد سفرِ بیت اللہ کا متحمل ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ ایامِ حج میں اللہ تعالیٰ کےگھر جاکر متعلقہ مناسک ادا کرے۔ حج کا بہت ثواب ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’حج مبرور کی جزا جنت ہے۔‘‘ (متفق علیہ)
ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا :
’’حج کرنے کے بعد انسان گناہوں سے یوں پاک صاف ہو جاتا ہے گویا وہ آج پیدا ہوا ہے۔” (متفق علیہ)
امام مسجد لوگوں کو حج کے لیے ابھار رہے تھے۔ زردوس نے دیکھا اسلام کی بستی میں عجیب و غریب جوش پایا جا رہا تھا۔ کچھ لوگ اپنی قسمت پر نازاں مگر مجسم عجز بنے حج بیت اللہ کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ جو نہیں جا سکتے تھے اشک بار تھے۔ اگلے سال حجِ بیت اللہ کے لیے سراپا دعا تھے۔ یہاں کا ماحول دیکھ کر ان دونوں کا دل واپس جانے کو نہیں چاہ رہا تھا، وہ ان لوگوں کے ساتھ دن بتانے اور سفر کی تیاریاں دیکھنے لگے۔ حج کے دن قریب آنے لگے۔ حاجی مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہوئے۔
حاجیوں کا احرام باندھنا، بیت اللہ شریف کا طواف کرنا، صفا مروہ کی سعی کرنا، بال کٹوانا، منیٰ میں حاضری دینا، وقوف عرفہ اور مزدلفہ میں قیام!! اللہ اللہ کیا مناظر تھے، جو وہ دور سے دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھیں اشک بار اور دل پسیج رہے تھے۔ حاجی فریضہ حج ادا کر کے گھروں کو لوٹے تو یہ دونوں بھی اپنے سیاہ پہاڑوں کے دیس میں لوٹ آئے۔

یہ اب اکثر چپ رہتے۔ اپنی آبادی کی برائیاں انہیں خوب کھلنے لگی تھیں۔ اسی طرح کچھ عرصہ بیت گیا کہ زردوس نے پھر اسلام کی بستی جانے کی ضد کی۔ جن دادا کو تو خود اس بستی کی یاد ستا رہی تھی۔ فوراً تیار ہو گئے۔
یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ بستی کا ہر عاقل، بالغ، صحت مند اور باشعور مسلمان مرد و عورت روزے رکھنے میں مشغول تھا۔ انہوں نے دیکھا یہ سب صبح صادق سے لیکر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور نفسانی خواہشات پر کنٹرول رکھے ہوئے تھے۔ یہ کنٹرول ان کو متقی اور پرہیز گار بنا رہا تھا۔ البتہ بستی کے کچھ مسافر اور مریض روزے سے نہیں تھے۔ وہ بعد از رمضان ان روزوں کی قضا دینے کے لیے پرعزم تھے۔ بستی کے لوگ باتیں کر رہے تھے کہ روزے کی بڑی فضیلت اور ثواب ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ’’جوشخص ایمان کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب کی خاطر روزے رکھے، اس کی سابقہ زندگی کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘ [بخاری ،مسلم]
روزہ سے جفا کشی، صبرو تحمل اور ناداروں سے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
روزہ طبی طور پر بھی لاتعداد فوائد کا موجب ہے۔
جن دادا نے لوگوں کی باتیں سن کر گہری سانس لی، جبکہ زردوس جن کہنے لگا دادا جان میں نے یہاں ایک معلم کو کہتے سنا ہے:

عن أبی عبد الرحمٰن عبد اللّٰہ بن عمر بن الخطّاب قال:سمعت رسول اللّٰہ ﷺ یقول:(بنی الاسلام علیٰ خمس :شھادۃ ان لاّ ا لٰہ الّا اللّٰہ وانّ محمّدا رسول اللّٰہ ،واقام الصّلٰوۃ،وایتاء الزّکوٰۃ،وحجّ البیت ،وصوم رمضان)[رواہ البخاری ومسلم]

کیوں نا ہم کلمۂ شہادت پڑھ کر دین اسلام میں داخل ہو جائیں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیاد ان ارکان اسلام پر اٹھائیں۔

زردوس کی بات سن کر جن دادا گویا بالکل ساکت ہوگئے۔ پھر کچھ دیر بعد بولے مگر ہم تو جن ہیں اور یہ انسان۔ ہم انسانوں کے رسول پر کیسے ایمان لے آئیں؟ زردوس ان کی بات سن کر بہت دکھی ہو گیا تھا. وہ خود بھی چپ چاپ قریبی نیم کے درخت پر بیٹھ گئے۔
دور سے کچھ بچے کھیلتے ہوئے آرہے تھے۔ ان میں سے ایک بچہ کہنے لگا۔ “جنوں کا کوئی وجود نہیں۔ یہ تو بس کہانیوں کے کردار ہیں۔” بچوں کے منہ پر اپنا نام سن کر دونوں جن پہلے تو حیران ہوئے پھر ان بچوں کی باتیں سننے کے لیے ان کے ساتھ ہو لیے جو فٹ بال پکڑے قریبی کھیل کے میدان کی جانب جا رہے تھے۔
کیوں نہیں؟ جن ہوتے ہیں ان کا ذکر تو قرآن پاک میں بھی آیا ہے۔ جن دادا اور زردوس نے ایک دوسرے کی جانب حیرت سے دیکھا۔ ہمارا ذکر ان کی مذہبی کتاب قرآن میں؟ وہ متجسس ہوئے۔

سفر طائف سے واپسی پر آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نماز فجر میں قرآن حکیم کی تلاوت فرما رہے تھے تو جنوں کی ایک جماعت کا گزر وہاں سے ہوا اور قرآن پاک کی تلاوت سن کر وہ جماعت مسلمان ہو گئی۔ اس واقعے کا ذکر سورہ احقاف آیت 29..30..31 میں اس طرح آیا ہے۔

” اور جب ہم نے آپ ﷺ کی طرف چند ایک جنوں کو پھیر دیا جو قرآن سن رہے تھے، پس جب وہ آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو کہنے لگے چپ رہو، پھر جب ختم ہوا تو اپنی قوم کی طرف واپس لوٹے ایسے حال میں کہ وہ ڈرانے والے تھے۔

کہنے لگے اے ہماری قوم! بے شک ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسٰی کے بعد نازل ہوئی ہے، ان کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہو چکیں، حق کی طرف اور سیدھے راستہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

اے ہماری قوم! اللہ کی طرف بلانے والے کو مان لو اور اس پر ایمان لے آؤ. وہ تمہارے لیے تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے گا۔”

سورۃ الاحقاف (29, 30, 31)

بچے تو یہ باتیں کر کے اپنے کھیل میں مشغول ہو گئے مگر دونوں جنوں کے دل کی دنیا زیر و زبر ہو رہی تھی۔ جس روشنی و ہدایت کی جانب وہ بڑھنا چاہتے تھے اسے ماضی میں کبھی ان کے بزرگوں نے قبول کیا تھا۔ گویا یہ روشنی ان کی قوم کے لیے بھی تھی جسے اپنی بداعمالیوں کے سبب وہ دھندلا چکے تھے۔
وہ دونوں کچھ دیر اسی طرح ساکت و جامد بیٹھے رہے۔ پھر جن دادا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ یہ دیکھ کر زردوس آگے بڑھا. پھر دادا کے آنسو پونچھتے عزم سے بولا دادا جان آئیں ہم اسلام اور ارکان اسلام کو مضبوطی سے تھامتے ہیں اور اپنی قوم کے پاس اپنے بزرگوں کی مانند ڈرانے والے بن کر لوٹتے ہیں۔ دادا جان نے مسکرا کر اپنے ہونہار پوتے کو دیکھا۔
میں تمہارے ساتھ ہوں بیٹے۔ انہوں نے اٹل لہجے میں جواب دیا۔
وہ دونوں اب ہواؤں میں تیزی سے پرواز کرتے اپنے سیاہ پہاڑوں کی جانب لوٹ رہے تھے۔ جہاں اجالا ہونے کو تھا۔

=====================

Latest news

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ مستقل نائلہ کو...

اندر باہر کا رشتہ

✒: ام مریم آمنہ نے جیسے ہی فجر کی نماز پڑھ کے سلام پھیرا تو آیان کو جاۓ نماز پر...

محبتیں زندہ رہتی ہیں!

✍? مریم خالد استاد ذوق کو کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر لگتا ہو...
- Advertisement -

رحمت کا سودا

رحمت کا سودا تحریر : خدیجہ اسحاق "رخشی آپی ....اتنی بے جا پابندیاں نہ لگایا کریں پلیز! آپ کو تو ہر...

سوال نمبر 2

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔ تین بچے ہیں۔ شوہر اور سسرال والے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں...

Must read

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم...
- Advertisement -

You might also likeRELATED
Recommended to you