سوال نمبر 1

-

- Advertisment -

سوال۔ میں ایک پڑھی لکھی اور گھریلو عورت ہوں۔ ہر طرح کے حالات کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں. الحمدللّٰہ، شادی شدہ زندگی کے اٹھارہ سال گزارنے کے بعد آج بھی میں گھر بیٹھ کر اپنے شوہر کی معمولی آمدنی پر گزارا کر رہی ہوں. لیکن میرے شوہر مجھ سے ہر وقت اس بات پر لڑتے ہیں کہ تم گھر بیٹھ کر مزے کرتی ہو، تمھیں بھی پیسے کمانے میں میرا ساتھ دینا چاہیے۔ لیکن میں گھر سے باہر نکل کر نامحرموں کے درمیان نہیں جانا چاہتی۔ گھر بیٹھے اپنے بچوں کی تربیت پر اپنا وقت صرف کرنا چاہتی ہوں۔ مجھے بتائیں کہ میں کیسے اپنے شوہر کو قائل کروں۔ نہیں تو میں اس بے مقصد لڑائی سے تنگ آ کر خود کشی کر لوں گی؟
ز.خ، کراچی.

جواب۔ بہن کے سوال کو پڑھا. بہن نے کہا کہ میں برداشت کر رہی ہوں، یا کر سکتی ہوں تو اس بات کو وضاحت کے ساتھ بتانا ضروری ہے کہ برداشت اور صبر میں کیا فرق ہے؟؟؟
برداشت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک ناگوار سمجھوتہ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے چیزیں کبھی بھی ہماری برداشت سے باہر ہو سکتی ہیں. یاد رکھیں کہ یہ سوچ ہماری زندگی میں موجود رشتوں میں دوری پیدا کر دیتی ہے۔
جب ہم صبر کر رہے ہوتے ہیں تو ہم اپنا سارا معاملہ اللّٰہ کے سپرد کر دیتے ہیں، لہٰذا ہمارا دل سکون میں آ جاتا ہے۔ اللّٰہ تعالٰی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔ جب اللّٰہ کی معیت ہوتی ہے تو دل کی بے چینی ویسے ہی بہت حد تک کم ہو جاتی ہے اور کام بھی کسی حد تک آسان ہو جاتا ہے۔ جب کہ برداشت میں ہمارے اندر ہی اندر ایک لاوا پک رہا ہوتا ہے جو کبھی بھی پھٹ سکتا ہے۔

اس لیے مسائل کے حل کے لیے پہلی چیز تو یہی ہے کہ انسان صبر کرے۔ اپنے معاملات کو اللہ کے حوالے کرنے کی عادت اور رویہ اپنے اندر پیدا کرے. نا کہ انسان خود کو شیطان کے حوالے کر دے۔

دوسری چیز ہے رشتوں کو سمجھنا. ہم رشتوں کو نبھا رہے ہوتے ہیں، سمجھ نہیں رہے ہوتے۔ جب ہم خود رشتوں کو سمجھنا شروع کرتے ہیں تو ان کو اپنی بات سمجھانا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ اپنے رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے پہلے رشتوں کو سمجھیں۔ عملی زندگی میں ہم یہ کرتے ہیں کہ رشتوں کو سمجھانے بیٹھ جاتے ہیں اور پھر بعد میں ان رشتوں کو سمجھتے ہیں۔ یہ ہماری زندگی کی ایک بہت بڑی غلطی ہے۔

مسائل سے نظریں چرانے یا دامن چھڑانے کی کبھی کوشش نہ کریں. تسلیم کریں کہ ہاں! یہ میرا مسئلہ ہے اور مجھے اس کو حل کرنا ہے. جب انسان حالات اور مسائل کو تسلیم کرتا ہے تو پھر اگلے مرحلے میں دل ان کو حل کرنے پر آمادہ ہوتا ہے. جبکہ مسائل کو تسلیم نہ کیا جائے تو ہر وقت انسان ایک الجھن اور کشمکش میں رہتا ہے جو ڈپریشن کا باعث بن جاتی ہے.

رب کائنات نے انسانی تعلقات بیٹا، شوہر، باپ، یہ تمام رشتے بہت پیارے بنائے ہیں۔ انہیں شیطان کے بہکاوے میں آکر ایسے چھوڑا نہیں جا سکتا کجا یہ کہ خودکشی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا جائے۔ مسلمان کے لئے تو ایسی موت دنیا اور آخرت دونوں ہی خراب کرنے والی بات ہے۔ دنیا کی رسوائی کے علاوہ آخرت کی سزا یہ ہے کہ انسان ہمیشہ خود کو وہی اذیت دیتا رہے گا جس اذیت ناک طریقے سے اس نے اپنی جان لی ہوگی.

بہت سے اصلاحی ادارے ایسے ہیں جہاں اسلامی ماحول اور ایکٹیویٹیز ہیں. کم دورانیہ کی ملازمت کے امکانات ہو سکتے ہیں. اگر آپ پڑھی لکھی، باصلاحیت ہیں تو سمجھداری کا ثبوت دیں اور اپنا علم دوسروں کی اصلاح اور فائدے کے لیے استعمال کریں. نیت اصلاح کی رکھیں. اور اگر اس اصلاح میں کچھ آمدنی کا ذریعہ بن جائے تو دنیا اور آخرت دونوں ہی سنورنے کے امکانات ہو جائیں گے. رب کی رضا اور شوہر کی رضا دونوں ہی ساتھ لے کر چلیں تو آخرت اور دنیا دونوں ہی سنور جائیں گی۔

مسائل کے حل کے لیے اپنا تعلق اس سے مضبوط کریں جو مسائل کے حل پر قادر ہے. جب بھی نماز کی ادائیگی کریں تو ساتھ ہی دو نفل حاجت کی ادائیگی بھی یقینی بنانے کی کوشش کریں۔ نفل کے بعد خوب گڑگڑا کر اللہ سے اپنا مسئلہ اور اپنی چاہت بیان کریں. نماز میں خشوع و خضوع پیدا کریں. استغفار کی کثرت کریں. ہمارے بہت سے مسائل ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہوتے ہیں اور استغفار ہی ان کو دور کرتا ہے. تعلق باللّٰہ مضبوط ہوگا تو ان شاء اللّٰہ آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ یا تو آپ کے شوہر کا دل بدل جائے گا یا آپ کی دلی چاہت اور حالات جاب کے لیے سازگار ہو جائیں گے اور آپ کا دل مطمئن بھی ہوگا، ان شاءاللہ.

Latest news

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ مستقل نائلہ کو...

اندر باہر کا رشتہ

✒: ام مریم آمنہ نے جیسے ہی فجر کی نماز پڑھ کے سلام پھیرا تو آیان کو جاۓ نماز پر...

محبتیں زندہ رہتی ہیں!

✍? مریم خالد استاد ذوق کو کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر لگتا ہو...
- Advertisement -

رحمت کا سودا

رحمت کا سودا تحریر : خدیجہ اسحاق "رخشی آپی ....اتنی بے جا پابندیاں نہ لگایا کریں پلیز! آپ کو تو ہر...

سوال نمبر 2

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔ تین بچے ہیں۔ شوہر اور سسرال والے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں...

Must read

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم...
- Advertisement -

You might also likeRELATED
Recommended to you