سوال نمبر 2

-

- Advertisment -

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔ تین بچے ہیں۔ شوہر اور سسرال والے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ گھر کے کسی بھی فیصلے یہاں تک کے بچوں کے سکول کے معاملے میں بھی میری بات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی. کبھی کبھار دل چاہتا ہے یہ گھر چھوڑ دوں۔ لیکن پھر بچوں کی وجہ سے یہ سب برداشت کرنا پڑتا ہے۔ میرا اس ماحول میں دم گھٹتا ہے. مجھے لگتا ہے میں نفسیاتی مریض بن جاؤں گی۔ مجھے بتائیں کہ کیسے میں اپنے ان مسائل کو حل کروں؟؟
بنت اسلم، لاہور.

جواب۔

یہ مسئلہ ہم سبھی کے ساتھ ہوتا ہے کہ جب حالات ہمارے لیے سازگار اور موافق نہیں ہوتے، دوسرے لوگ ہماری سوچ کو وہ اہمیت نہیں دیتے جو ہم توقع رکھ رہے ہوتے ہیں تو ہمارا دم گھٹنے سا لگتا ہے، مایوسی غالب آ جاتی ہے. ہم دل ہی دل میں حالات سے اتنے تنگ آ جاتے ہیں کہ حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس جگہ کو چھوڑ کر کہیں دور چلے جانے کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں. لیکن ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم کسی جگہ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں. وقتی طور پر دور ہوا جا سکتا ہے لیکن ہمیشہ کے لئے اپنی جگہ کو نہیں چھوڑا جاسکتا۔

خاص کر اس صورت میں جب کہ مسائل اپنے ہی رشتوں جیسا کہ شوہر اور بچوں سے وابستہ ہوں۔ کیونکہ ہمیں ان رشتوں کو چھوڑنے سے پہلے یا ان رشتوں کے بارے میں ایسا کچھ سوچنے سے بھی پہلے اس کے متوقع نتائج کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے پلاننگ کے ساتھ کام کیا جائے تو دنیا اور آخرت دونوں میں ہی بہتری آپ کے حصے میں آتی ہے۔
ہوتا ہے ایسا،،، کہ زندگی کے مشکل حالات میں انسان لڑتے لڑتے اتنا گھبرا جاتا ہے کہ دم گھٹتا محسوس ہوتا ہے۔ خاص کر اس وقت جب تکلیف دینے والے اپنے ہی پیارے قریبی رشتے ہوں۔

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں بہت کٹھن حالات اور پریشانیوں کا سامنا کیا. اللّٰہ تعالٰی نے اس طرح کے حالات سے نمٹنے کا علاج سورۃ الحجر میں یہ بتایا ہے:
“ہم جانتے ہیں کہ آپ کا دل گھٹتا ہے ان لوگوں کی باتوں سے جو یہ باتیں کرتے ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ آپ تسبیح کریں۔ حمد کریں اور سجدوں کی کثرت کریں۔”

یہ علاج خود اللّٰہ تعالٰی نے قرآن پاک میں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا۔ اس بنا پر جب بھی آپ کو پریشانی ہو یا آپ گھٹن محسوس کر رہی ہوں تو اپنا تعلق رب سے مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم رشتوں سے توقعات بہت زیادہ وابستہ کر لیتے ہیں اور پھر اپنی اہمیت ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں۔ تو اپنی توقعات کو محدود کر دیں اور باقی چیزوں پر فوکس کرنے کی کوشش کریں۔

ہو سکتا ہے آپ کسی اور کام میں بہت اچھی ہوں اور اس کام کو کر کے اپنے آپ کو منوا سکیں. اللّٰہ پر یقین رکھتے ہوئے اپنے آپ کو دوسرے شعبوں میں منوانے کی کوشش کریں۔ ہو سکتا ہے کہ جب آپ وہاں پر اپنے آپ کو منوانے میں کامیاب ہو جائیں تو آپ کے گھر والے آپ کی بات کو اہمیت دینے لگ جائیں کہ ہاں آپ بھی کچھ اچھا کر سکتی ہیں۔ اس کے لئے درس و تدریس سمیت بہت سے شعبے ہیں جو گھر بیٹھے آپ اپنا سکتی ہیں اور اپنی گھریلو مصروفیات کے ساتھ انہیں جاری رکھ سکتی ہیں۔ اور اپنے ذہن کو مصروف رکھنے کی بھی کوشش کریں۔

یہ سب سے بہترین علاج ہے کہ اللّٰہ کی حمد بیان کیجیے۔ اس کی تسبیح کیجیے اور لمبے لمبے سجدے کیے جائیں اور اللّٰہ سے بھرپور مدد طلب کی جائے۔ اللّٰہ تعالٰی بہترین مدد کرنے والا ہے. وہ آپ کے لئے بہت سے راستے کھول دے گا۔ جب انسان اللّٰہ پر توکل کرتا ہے تو اللّٰہ پاک اپنی مخلوق کے لیے مختلف راستے بنا دیتا ہے۔ اس مشکل سے نکلنے کے لیے راستے آسان کر دیتا ہے۔ اللّٰہ سے اچھا گمان رکھیں۔ ان شاءاللّٰہ، وقت کے ساتھ ساتھ تمام معاملات آسان ہوتے جائیں گے۔

Latest news

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ مستقل نائلہ کو...

اندر باہر کا رشتہ

✒: ام مریم آمنہ نے جیسے ہی فجر کی نماز پڑھ کے سلام پھیرا تو آیان کو جاۓ نماز پر...

محبتیں زندہ رہتی ہیں!

✍? مریم خالد استاد ذوق کو کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر لگتا ہو...
- Advertisement -

رحمت کا سودا

رحمت کا سودا تحریر : خدیجہ اسحاق "رخشی آپی ....اتنی بے جا پابندیاں نہ لگایا کریں پلیز! آپ کو تو ہر...

سوال نمبر 2

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔ تین بچے ہیں۔ شوہر اور سسرال والے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں...

Must read

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم...
- Advertisement -

You might also likeRELATED
Recommended to you