قرآن قرآن پر عمل قرآن پر عمل قسط نمبر 15

قرآن پر عمل قسط نمبر 15

-

- Advertisment -

قرآن پر عمل

غیب کا علم

یہ بات پہلے عرض کر چکی ہوں کہ ہمارے یہاں درسِ قرآن روایتی طریقے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ پہلے روز درسِ آیات کا تفصیلی تعارف پیش کیا جاتا ہے یعنی ان کی تفسیر بیان ہوتی ہے۔ پھر اگر ان آیات سے متعلق فقہی احکام ہوں تو انہیں پیش کیا جاتا ہے۔ شانِ نزول اور اسبابِ نزول پر گفتگو کی جاتی ہے۔ آیات محکم ہیں یا متشابہ، ناسخ ہیں یا منسوخ، اس کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ اگر درسِ آیات بآسانی حفظ ہو سکیں تو انہیں حفظ کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔
تلاوت کے احکام و آداب سکھائے جاتے ہیں پھر سب سے آخر میں یہ عرض کیا جاتا ہے کہ ان آیات پر عمل کیسے کرنا ہے؟ گذشتہ درس میں پڑھائی جانے والی آیات پر عمل درآمد کے دوران پیش آنے والے واقعات سنے جاتے ہیں۔ بعض اوقات قرآنی علوم کے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔
علم و معرفت سے لگاؤ رکھنے والی خواتین اور لڑکیاں باہمی محبت و مؤدت کے ماحول میں قرآنی دسترخوان سے سیر ہوتی ہیں۔

ہم نے علمِ تجوید و قرأت کے ایک ماہر سے التماس کی کہ وہ ہمارے درس میں آکر اس علم کے اصول وقواعد کی تعلیم دیں تاکہ تلاوت درست اور صحیح طریقے سےہو سکے۔ قاری صاحب تشریف لانے لگے شرکاے خواتین بہت خوش تھیں۔ وہ علمِ تجوید کے قواعد کے مطابق قرآن شریف بہتر طور پر پڑھنے کے قابل ہو رہی تھیں۔ روز بروز ان کے علم میں اضافہ ہو رہا تھا ان کی زبانیں اور گلے تجوید کے اصول و ضوابط کے مطابق حرکت کر رہےتھے۔
قاری صاحب اپنے فن کے ماہر تھے مگر ان میں ایک خرابی تھی کہ وہ دوران درس ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگتے تھے۔ وہ مزارات کی اہمیت اور اصحابِ مزارات کی تقدیس میں مبالغے سے کام لیتے تھے۔ شرکائے درس ان کی مبالغہ آرائی کو ناپسند کرتی تھیں کیوں کہ انہیں قبروں کی زیارت کے متعلق احکام وآداب اچھی طرح معلوم تھے۔ تاہم خواتین کی ناپسندیدگی ابھی اکتاہٹ کے درجے مں نہ پہنچی تھی کیوں کہ انہیں معلم تجوید کے علم وفن سے استفادہ زیادہ عزیز تھا۔ لہٰذا وہ ان کی باتوں کو صبر و برداشت سے سنتیں۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا۔ حتٰی کہ ایک دن قاری صاحب نے ایک ایسی بات کہہ دی جس سےخواتین کے برداشت کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور نوبت بحث و مباحثہ اور تکرار تک جا پہنچی۔
قاری صاحب ایک پیر صاحب کے عقیدت مند تھے۔ وہ پہلے بھی ان کا تذکرہ کرتے رہتے تھے۔ مگر اس دن انہوں نے اپنے شیخ صاحب کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے۔ یہاں تک کہہ دیا کہ میرے پیر صاحب تو غیب کا علم بھی جانتے ہیں۔ انہوں نے ایک قصہ سنایا کہ ایک دفعہ ایک جوڑے کا نکاح پڑھانے کے بعد حضرت نے دولہا اور دلہن کی تاریخ پیدائش دریافت فرمائی۔ پھر آپ  نے ایک کاغذ پر قلم سے کچھ لکھا۔ کچھ حساب کیا اور دولہا کو ایک طرف لے جا کر کہا، آپ کی اس شادی کا انجام ناکامی ہے۔ آپ جلد ہی دلہن کو طلاق دے دیں گے۔ دولہا نے حضرت پیر صاحب کو بہ نظر حقارت دیکھا اور آپ کے ارشاد کی کچھ پروا نہ کی۔ ابھی چند ماہ گزرے تھے کہ اس دولہا نے اپنی دلہن کو طلاق دے دی۔ اب اس دولہا نے دوبارہ شادی کا ارادہ کیا تو حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ حضرت کچھ حساب کتاب کر کے بتائیں کہ دوسری شادی اور دلہن کا انجام کیا ہو گا۔
قاری صاحب جب یہ واقعہ بیان کر چکے تو میں نے حاضرین کی طرف دیکھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ انتہائی افسردہ و پریشان خاطر ہوں۔ میں نے معلم تجوید پر نگاہ ڈالی تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ وہ اپنی واضح کامیابی اور دندان شکن دلیل پر مسرور تھے۔ انہوں نے گویا یہ ثابت کر دیا تھا کہ ان کے حضرت صاحب کو علمِ غیب حاصل ہے۔ ادھر مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ مسجد کے ستون کانپ رہے ہیں اور استادِ قرأت کے اس دعوی کی تردید میں کتاب اللہ کی آیات پڑھنے کے لیے بے قرار ہیں۔ وہ گویا زبانِ حال سے اس قاری قرآن کے من گھڑت اور جھوٹے بیان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ میں نے بآوازِ بلند یہ آیت پڑھی ۔۔۔

“وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔”

تجوید کے مدرس نے انتہائی غصے سے میری طرف دیکھا۔ اس نے چیلینج کرنے والے انداز میں چلا کر کہا، آیت پوری پڑھو۔ اس پر میں نے کہا،
“سوائے اس رسول کے، جسے اس نے غیب کا علم دینے کے لیے پسند کر لیا ہو، تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے اور وہ ان کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہےـ”

اس پر قاری صاحب نے انتہائی نفرت سے کہا، تم نے دیکھاـ
میں نے بڑے وثوق و اطمینان سے جواب دیا، “یاد رکھیے، آپ کے پیر صاحب ہوں یا کوئی اور نجومی، عمل کرنے والے، قسمت کا حال بتانے والے، ہندسے لکھ کر حساب کتاب کرنے والے، ان میں سے کوئی بھی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ وہ اللّٰہ کا برگزیدہ رسول ہے۔ جب کہ اللّٰہ اپنے علمِ غیب میں سے کچھ کو ہی سرفراز فرماتا ہے۔ جو واقعہ آپ نے بیان کیا ہے، اگر سچا بھی ہے تو بھی آپ کے پیر صاحب کی غیب دانی کا ثبوت نہیں بلکہ محض ایک گمان ہے۔ گمان کبھی درست ہو جاتا ہے اور کبھی غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ لوگوں کے مستقبل کے بارے میں اس قسم کے تکے، تخمین و افترأ کے سوا کچھ نہیں۔”
یہ سن کر اس آدمی کو سخت غصہ آیا۔ غصے سے اس کا بدن کانپ رہا تھا۔ اس نے انتہائی بلند آواز میں چیخ کر کہا: “میں آپ کو اجازت نہیں دے سکتا کہ آپ میرے پیرو مرشد کی شان میں گستاخی کریں اور میرے سامنے ان کی توہین کریں۔” اب قاری غصے سے بے تاب ہو کر منہ سے جھاگ نکال رہا تھا۔
مسجد کے احترام کے پیش نظر میں نے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔ قاری صاحب نے کہا کہ مجھے اجازت دیجیے، مجھے اس وقت کہیں کام کے لیے جانا ہے۔ کسی سے وعدہ کر رکھا ہے، تاخیر نہ ہو جائے۔

معلم تجوید کے جانے کے بعد میرے حافظے کی اسکرین پر بہت سے نقوش ابھرنے لگے۔ مجھے ایک شاعر کا شعر یاد آیا۔

“حکم المنجم ان طالع مولودی  یقضی علی بمیۃ الغرق
قل اللمنجم صبحۃ الطوفان ھل  والد الجمیع بکوکب الغرق”

ترجمہ: “اگر نجومی میری پیدائش کا زائچہ بنائے اور دیکھ لے تو وہ میرے بارے میں ڈوب کر مرنے کا فیصلہ کرے گا۔ نجومی سے طوفان کی صبح کہہ دیجیے کہ کیا سارے لوگ، ڈوبنے والے ستارے ہی کے حساب سے پیدا ہوئے تھے۔”

اس کے ساتھ ہی مجھے نہروان کا وہ واقعہ یاد آگیا جو صحیح مسلم میں درج ہے۔ امیر المومنین حضرت علیؓ بن ابی طالب نے جنگ کے لیے کوچ کا حکم دیا تو مسار بن عوف نے عرض کیا، “یا امیر المومنین! آپ اس گھڑی کوچ نہ فرمائیں بلکہ دن کی تین گھڑیاں گزر جائیں تو اس وقت کوچ فرمائیں.”
حضرت علی ؓ نے پوچھا: “کیوں؟”
جواب دیا “آپ اگر اس وقت کوچ کریں گے تو آپ کو اور آپ کے ہمراہیوں کو تکلیف اور مصیبت سے واسطہ پڑے گا اور سخت نقصان پہنچے گا اور اگر آپ میری تجویز کردہ گھڑی میں کریں گے تو آپ کو فتح نصیب ہو گی- “
یہ سن کر علی ؓ نے فرمایا: “محمد ﷺ نجومی نہیں تھے اور نہ ہی آپﷺ کے بعد ہم میں سے کوئی نجومی ہے۔ جس کسی نے تمہاری بات کو سچ مانا، میں اسے ان لوگوں میں شمار کروں گا جو اللّٰہ کو چھوڑ کر اوروں کو کارساز سمجھ لیتے ہیں۔ اے اللّٰہ! تیری فال کے سوا کوئی فال نہیں اور تیری خیر کے سوا کوئی خیر نہیں۔”
پھر آپ نے مسار بن عوف سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا، “ہم تجھے جھوٹا سمجھتے ہیں، تیرے مشورے کے خلاف چلتے ہیں اور ہم اسی وقت چلیں گے جس وقت چلنے سے تو ہمیں رکنے کا کہہ رہا ہے۔”
اس کے بعد علی ؓ نے اپنے لشکروں سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے لوگو !علم نجوم مت سیکھوـ ہاں صرف اتنا سیکھو جس سے تم خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ تلاش کر سکو۔ یاد رکھو کہ نجومی جادوگر کی مانند ہے اور جادوگر کافر کی مانند جہنم کی آگ میں ہوگا۔ اے مسار بن عوف! اللّٰہ کی قسم اگر مجھے اطلاع ملی کہ تو ستاروں میں دلچسپی لے رہا ہے تو میں تجھے قید میں رکھوں گا جب تک تو زندہ ہے اور میں زندہ ہوں۔ میں اپنے اختیارات سے کام لے کر تجھے تمام عطیات سے  بھی محروم کر دوں گا۔
خطاب کے بعد علیؓ نے اسی وقت کوچ کیا جس وقت کوچ نہ کرنے کا آپ کو مشورہ دیا گیا تھا۔ دشمنوں سے مقابلہ کیا اور انہیں تہس نہس کر دیا۔ لڑائی کے بعد آپؓ نے لشکر سے فرمایا: “اے لوگو! اللّٰہ پر توکل کرو اور اس پر بھروسہ کرو۔ اللّٰہ دوسروں کے مقابلے میں تمہارے لیے کافی ہوگاـ” (القرطبی جلد ۲۹،ص۲۸)۔

اس کے ساتھ ہی مجھے خلیفہ معتصم باللہ کا واقعہ یاد آگیا۔ معتصم نے ایک مسلمان عورت کی بے ادبی کا بدلہ لینے کے لیے (جس نے “وا معتصماہ!” کہہ کر اسے پکارا تھا) اور رومیوں کی عداوت اور مسلمانوں پر ظلم و تشدد کا بدلہ لینے کے لیے عموریہ پر چڑھائی کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے لشکر کو تیاری اور کوچ کاحکم دے دیا۔ نجومیوں نے حسبِ عادت خلیفہ کے مقرر کردہ وقت پر لشکر کے کوچ کرنے کی مخالفت کی کیوں کہ یہ گھڑی نحس تھی، سعد نہ تھی۔ ان کے حساب سے غیر مناسب تھی۔ مگر خلیفہ نے نجومیوں کی بات کی پروا کیے بغیر اسی وقت کوچ کا حکم دیا۔ لشکر کی قیادت کی اور عموریہ فتح کیا۔ رومیوں کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔
مجھے یہ بات پہلے سے معلوم تھی کہ ہمارے مدرسِ تجوید کی اولاد نہیں ہے۔ اس کی بیوی مسلسل زیرِ علاج ہے ۔ میں نے سوچا کہ اگر قاری صاحب کے پیر کو علم غیب ہے تو انہوں نے اسے اس عورت سے شادی کرنے سے کیوں نہیں روکا؟
میں اپنی سوچ سے باہر آئی۔ حاضرین کو دیکھا وہ حیرت زدہ اور گومگو کی کیفیت میں تھیں۔ ایک طرف ان کا علم غیب کے بارے میں قرآن و سنت پر مبنی علم تھا دوسری طرف معلم تجوید کا تجربہ اور دعویٰ تھا۔ میں نے تذبذب کو ختم کرنے کا فوری فیصلہ کیا۔ ان سے گفتگو شروع کی۔ پہلے میں نے انہیں بتایا کہ میں کیا سوچ رہی تھی۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ اس ارشادِ الہی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

“اے نبیﷺ! ان سے کہو کہ میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، اللّٰہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے۔ اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتاـ”

تمام خواتین نے بیک وقت جواب دیا، “بے شک اللّٰہ بزرگ و برتر نے سچ فرمایاـ”ایک خاتون نے کہا، “بعض علم غیب کے دعوےدار کہتے ہیں کہ انہیں غیب کا علم جنات کے ذریعے حاصل ہوتا ہےـ”
میں نے اس کی تردید میں یہ  آیت پڑھی۔
“پھر جب سلیمان پر ہم نے موت کا فیصلہ صادر کیا تو جنوں کو اس موت کا پتا دینے والی کوئی چیز اس گھن کے سوا نہ تھی جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا۔ اس طرح جب سلیمان گر پڑے تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب کا علم جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتےـ”

میں نے عرض کیا کہ جنات غیب دانی کا دعوی کرتے تھے مگر اللّٰہ نے ان کا جھوٹ کھول دیا اور انہیں رسوا کر دیا۔ مگر افسوس کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ اب تک جنوں اور دھوکہ بازوں کے ان دعووں کو درست سمجھتے ہیں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے کلام سے چشم پوشی کر لیتے ہیں۔ دیکھیے سیدنا نوح علیہ السلام اللّٰہ کے نبی اور رسول ہیں۔ اس کے باوجود وہ وحی الٰہی کے ماسوا کسی بھی طرح سے معرفتِ غیب کی اپنی ذات سے نفی کرتے ہیں۔

“اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللّٰہ کے خزانے ہیں، نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، نہ یہ میرا دعویٰ ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔”

میں نے حاضرین کے چہروں پر سکون و اطمینان محسوس کیا، اس لیے کہ آیاتِ الہی اس قدر واضح و قاطع ہیں کہ ان میں شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے۔
قرأت و تجوید کے معلم جب اگلے درس میں تشریف لائے اور دورانِ درس حسبِ معمول حکایات و واقعات اور قصے بیان کرنے شروع کیے تو کسی نے بھی توجہ سے نہ سنا۔ خواتین کو اگر استاد کا احترام ملحوظ نہ ہوتا تو شاید قاری صاحب کو ذلت کا سامنا کرنا پڑتا۔ قاری صاحب جب تشریف لے گئے تو تمام خواتین نے سخت بےزاری کا اظہار کیا اور درخواست کی کہ انہیں اس امر کا پابند کر دیا جائے کہ وہ آئندہ اس قسم کے خلاف قرآنی واقعات بیان نہ کریں، نہ ہی اپنے انتہا پسند نظریات کا پرچار کریں۔ میں نے اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر یہ اعلان کر دیا کہ آئندہ ہمارے عمل کے لیے یہ آیت ہوگی؛
“وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔”

تمام حاضرین نے میری بھرپور تائید کی۔ ایک خاتون نے کہا، “ہو سکتا ہے کہ یہ قاری صاحب اور اس قماش کے دیگر لوگ اپنے دعووں کو حقیقت سمجھتے ہوں۔” ایک اور خاتون بولیں: “میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ فرشتوں کو دیکھتے اور ان سے بات  چیت کرتے ہیں۔ کئی تو اس حد تک جسارت کرتے ہیں کہ عرش الٰہی کو دیکھنے کا تصور کرتے ہیں۔”
تمام خواتین نے مدرس تجوید کے خیالات سے بحیثیتِ مجموعی اظہارِ بے زاری کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ہم آئندہ قاری موصوف سے استفادہ نہیں حاصل کریں گے۔ بلا شبہ وہ اپنے فن کے ماہر ہیں مگر علم کسی خاص شخص یا طبقے تک محدود نہیں۔ چنانچہ آئندہ درس میں قرأت و تجوید سکھانے کے لیے ایسی خواتین کو دعوت دی گئی جو اس فن میں ماہر تھیں۔

Latest news

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ مستقل نائلہ کو...

اندر باہر کا رشتہ

✒: ام مریم آمنہ نے جیسے ہی فجر کی نماز پڑھ کے سلام پھیرا تو آیان کو جاۓ نماز پر...

محبتیں زندہ رہتی ہیں!

✍? مریم خالد استاد ذوق کو کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر لگتا ہو...
- Advertisement -

رحمت کا سودا

رحمت کا سودا تحریر : خدیجہ اسحاق "رخشی آپی ....اتنی بے جا پابندیاں نہ لگایا کریں پلیز! آپ کو تو ہر...

سوال نمبر 2

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔ تین بچے ہیں۔ شوہر اور سسرال والے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں...

Must read

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم...
- Advertisement -

You might also likeRELATED
Recommended to you