قرآن قرآن پر عمل قرآن پر عمل قسط 5

قرآن پر عمل قسط 5

-

- Advertisment -

قرآن پر عمل

قسط (5)
خواتین کے منفرد تجربات

حال ہی میں ایک عرب ملک میں قرآن کریم پر عمل کرنے کی عملی دعوت کا آغاز ہوا ہے ۔ یہ تحریک جدید تعلیم یافتہ خواتین نے شروع کی ھے ۔ تھوڑے ہی عرصے میں اس مبارک اقدام کے حیران کن مگر خوشگوار نتائج سامنے آئے ہیں ۔
محترمہ سمیہ رمضان اس تحریک کی بانی ہیں ۔ انھوں نے سوکس اور پولیٹیکل سائنسز کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ھے ۔ انھوں نے ان مضامین میں تخصص کے بجائے علوم شریعت کا رخ کیا اور کئی برس تک انھیں حاصل کیا ۔ ان مضامین میں تخصص کرنے کے بعد انھوں نے عملی زندگی کا آغاز کیا ۔ وہ اپنی رفیقات کے ساتھ پڑوسیوں کے گھروں میں جاکر انھیں تعلیم دیتیں اور دینی معاملات سے متعارف کرواتیں ۔
محترمہ سمیہ رمضان اپنے محلے کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے گئیں تو انھوں نے نماز کے بعد وہاں موجود خواتین سے گفتگو میں یہ طے کیا کہ ہفتے میں ایک بار جمعہ کی نماز کے بعد سب خواتین کی ایک نشست ہوا کریگی ۔ ہر جمعے کو عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ۔ عورتیں اپنی پڑوسنوں اور رشتہ دار خواتین کو ساتھ لانے لگیں ۔ ان میں سے بہت سی خواتین محترمہ سمیہ سے اپنے مسائل اور پریشانیاں بیان کرتیں ۔
محترمہ انتہائی رازداری سے انھیں جواب دیتیں اور ہر مشکل کا حل بتاتیں ۔ محترمہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ ان میں سے بہت سی مشکلات کا حل معمولی سی کوشش سے ممکن ھے ۔ ضرورت اس بات کی ھے کہ ہم اپنے مسائل و مشکلات کو قرآن مجید کے سامنے پیش کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے مدد لیں ۔ ایک دن درس دینے کے بعد محترمہ نے خواتین سے کہا آج ہم ایک نئے پروگرام کا آغاز کررہے ہیں ۔ ہم اپنی تمام مشکلات کو قرآن سے حل کریں گے اور ہم جو کچھ قرآن سے سمجھیں گے عملی زندگی پر اسے منطبق کرینگے ۔ ہم ہر ہفتے ایک آیت لینگے ۔ پورا ہفتہ اسے ہی دہراتے رہیں گے ۔ ہم یہ آیت حفظ کرینگے ۔ اس پر عمل درآمد کریں گے ۔ اس آیت کا عملی اطلاق کرینگے ۔
اس آیت سے ہی ہم حرکت کرینگے ، اسکے حکم اور منشاء کی پابندی کریں گے اور یوں یہ آیت ہماری زندگی کا حصہ بن جائے گی ۔ خواہ اس پر عمل کرنے میں ایک ہفتہ لگے یا ہفتے سے زیادہ وقت ۔ اس کے بعد ہم پھر دوسری آیت لیں گے ۔ اس پر اچھی طرح عمل ہو جائے گا تو پھر ایک اور آیت لیں گے ۔ یوں ہم دیکھیں گے کہ نتیجہ کیا سامنے آتا ھے ؟
قصہ مختصر نتیجہ نہایت ہی شاندار نکلا ۔ بہت سے مسئلے حل ہوئے ، بہت سی مشکلیں ختم ہوئیں ، بڑی حد تک لوگوں کو سکون و اطمینان کی دولت ملی ۔ خاندانی جھگڑے کم ہوگئے ۔ اجڑے ہوئے گھر بسنے لگے ۔ روٹھے ہوئے راضی ہوئے ۔ بہت سے شوہروں نے اپنی بیویوں کے روئیے کی تبدیلی کو سراہا اور اسے ایک خوشگوار انقلاب قرار دیا ۔ درس کے لئے اب عورتیں بڑی تعداد میں آنے لگیں یہاں تک کے عورتوں کے لئے مختص درسگاہ میں بیٹھنے کی گنجائش نہ رہی ۔ اب درس مسجد کے مرکزی حصے میں جہاں مرد نماز ادا کرتے ہیں ، ہونے لگا ۔ مگر جلد ہی مسجد بھی تنگ معلوم ہونے لگی ۔ یہ درس صرف عورتوں کے لیے ہوتے تھے ۔ مردوں کو اجازت نہ تھی مگر عورتوں کے درس سننے کے نتیجے میں گھروں کا جو ماحول بدلا تو مردوں نے بھی مسجد کا رخ کیا ۔ یہ دیکھ کر مسجد کی انتظامیہ نے مسجد کی توسیع کا فیصلہ کیا ۔
یہ تو تھی اس مبارک سلسلے کے آغاز کی روداد ۔ اس کے بعد کیا ہوا ؟ آیات پر عمل کیسے ہو رہا ھے ؟ حکم قرآنی پر خواتین نے عمل کا تجربہ کیسے کیا ؟ ان خوشگوار تجربات میں سے کچھ یہاں پیش کیئے جارہے ہیں ۔

1۔ گھر میں چیخنا چلانا

ہفتہ وار درس قرآن ہو چکا تو حسب معمول گزشتہ ہفتے کے بارے میں خواتین نے اپنے تاثرات و مشاہدات سنانے شروع کیے ۔ ساتھ ساتھ ان پر تبصرے بھی کیے جا رہے تھے کہ ایک خاتون بولیں – اللّٰه کا فضل ہے کہ میں نے اپنی ساری خامیوں اور کمزوریوں کو دور کر لیا ہے ۔ میں نے ، میرے خاوند نے اور میرے بچوں نے بفضلِ خدا مل کر گھر کے ماحول کو خوش گوار بنا رکھا ہے ، مگر میرے اندر ایک کمزوری ہے ، جس سے میں جان نہیں چھڑا سکی ہوں ، یہ ہے میری بلند آواز ۔ میری کئی بہنوں کو بھی اونچی آواز میں چلّانے کا مرض ہے ، وہ بھی اس سے چھٹکارا چاہتی ہیں ۔

اس پر میں نے کہا ، آج ہماری نشست میں اس آیت پر غور ہونا چاہیے ، وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ
( لقمان: 31/19 ) اور اپنی آواز ذرا پست رکھ ، سب آوازوں سے بُری آواز گدھوں کی ہے ۔
ہم اس آیت کے مطابق زندگی گزاریں گے ، اسی آیت کی روشنی میں سوچیں گے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے ، ہم اسے برابر دہراتے رہیں گے ، تاکہ اللّٰه ہم سب کو اپنی آواز دھیمی کرنے کی توفیق دے ۔ ہم سب خواتین نے یہ طے کر لیا کہ ہم اس آیت کو اتنا دہرائیں گے کہ یہ آیت گویا ہمارے دلوں میں سرایت کر گئی ہے ، اور ہمارے دلوں کو اس نے روشن اور منور کر دیا ہے ، آئیے دیکھیں کہ یہ آیت کریمہ کیا نتائج دکھاتی ہے ؟

جس خاتون کو اونچا بولنے اور چیخنے چلّانے کا دورہ پڑتا تھا اور جس نے ہفتہ وار درس قرآن میں مجھ سے مشورہ طلب کیا تھا ، اسے درس سنےاور درج بالا آیت کا نسخہ ہم سے لئے ابھی چند دن ہوئے تھے کہ اس کی پڑوسن نے اسے ٹیلیفون کیا اور پوچھا : “میں نے کئی دن سے آپ کی آواز نہیں سنی ، خیریت تو ہے ؟ ” متاثرہ خاتون نے جواب دیا : ” بالکل خیریت ہے ، آپ آجائیے ، درس میں تو ابھی بہت دن ہیں ۔ میں اتنا انتظار نہیں کر سکتی ۔ اگر آپ کے پاس کچھ وقت ہے ، تو میری بات سننے کے لئے آ جائیے ۔ “

پڑوسن جلد ہی پہنچ گئیں ، تو خاتون نے اس سے کہا : جیسا کہ درس میں محترمہ سمیہ نے رہنمائی کی تھی ، میں یہ آیت بار بار دہراتی رہی حتیٰ کہ مجھے حفظ ہو گئی ۔ یوں ایک دن گزر گیا ۔ اگلے دن کی صبح حسب معمول بچے سکول جانے کی تیاری کر رہے تھے ۔ اس مرحلے پر جیسا کہ آپ کو معلوم ہے میری حالت انتہائی قابل رحم ہوتی ہے ، ایک ہی وقت میں ہر کوئی اپنی اپنی چیز مانگ رہا ہوتا ہے ، مجھے اس موقع پر چلّانے کی عادت تھی ، میں بچوں کے ساتھ چیخ چیخ کر باتیں کرتی تھی ، مگر اس صبح میں نے آیت کریمہ
وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ
پر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ اس آیت کے حقیقی نفاذ کے وقت بچوں کے رویے کی وجہ سے میرے رویے میں بھی شدت آنے لگی ۔ میرے مزاج میں آج پھر تیزی آنے لگی ، کیونکہ ایک بچے کو جوتا نہیں مل رہا تھا ، دوسرے کو بیلٹ ، تیسرے کو پین اور چوتھے کو بستہ ۔ یہ سن کر میری کیفیت وہی ہو گئی ، جو پہلے ہوتی تھی ۔ میں نے بچوں کو زور زور سے ڈانٹنا شروع کر دیا ۔ مگر اسی لمحے محسوس کیا کہ میرا چہرہ سرخ ہو گیا ہے اور میری شکل گدھے کی سی ہو رہی ہے ، کان گدھے کی طرح لمبے ہو رہے ہیں ، میں نے فورا سوچا کہ گدھے کی طرح آواز نکالنے سے تو ہمیں روکا گیا ہے ، ہمیں اپنی آواز گدھے سے مشابہ نہیں کرنی چاہیئے ۔ اللّٰه تعالیٰ نے جب روک دیا ہے ، اپنا حکم دے دیا ہے تو پھر ہمیں اس حکم کی تعمیل کرنی چاہیے ۔ کہیں ہماری شکل بگڑ نہ جائے ، ہم یہودیوں کی طرح خنزیروں اور بندروں کی صورت مسخ نہ کر دیے جائیں ۔

میں چیخنے چلّانے کی اس تشبیہ کا تصور کر کے شرمندہ ہوئی ، کیونکہ اس طرح میں انسانوں سے نکل کر حیوانوں کے زمرے میں داخل ہو چکی تھی ۔ یہ تصور آتے ہی میں بچوں کے لئے نرم پڑ گئی ، اور آہستہ آہستہ بولنے لگی ۔ ”ہاں یہ لے لو، یہ تمہارا جوتا ہے ، قلم بھی یہیں کہیں ہو گا ، تم نے اپنی ضروری چیزیں کل ہی اپنے بستے میں کیوں نہ رکھ لیں ، ” یوں یہ مشکل مرحلہ بھی آسانی سے گزر گیا ۔ ان چند منٹوں میں میرا غصہ انتہا کو پہنچ جایا کرتا تھا ۔ اور مجھے اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوتی تھی ، اس دن یہ لمحے سکون و قرار سے گزر گئے ۔

میں امتحانات میں کامیاب ہو گئی ، جی ہاں پاس ہو گئی ۔ چند دن سے میرا یہی حال ہے ، میرا یہ سکون و قرار اور دھیمی آواز اور لہجے کو دیکھ کر میرا خاوند پہلے تو پریشان ہوا ۔ پوچھنے لگا ، ” تم بیمار تو نہیں ہو ؟ میں نے جواب دیا ، جی ہاں میں بیمار تھی ، مریضہ تھی ۔ اللّٰه تعالیٰ نے مجھے شفا دے دی ۔ اللّٰه نے قرآن مجید پر عمل کے ذریعے مجھے صحت عطا فرما دی ۔ میرے میاں نے میری بات سنی تو اسے یقین نہیں آ رہا تھا ۔ پھر کہنے لگا ، ” یہ تو اچھی بات ہے ، بڑی اچھی بات ہے کہ تبدیلی خود تمہاری طرف سے آئی ہے ، کاش یہ تبدیلی جاری رہے ۔” میں نے جلدی سے کہا : اب ان شاء اللّٰه یہی حالت رہے گی ۔ اللّٰه تعالیٰ کا فرمان ہمیشہ میرے دل میں جاگزیں رہے گا ۔ مجھے تو اللّٰہ تعالیٰ کے قرآن نے زندگی کے انتہائی خوشگوار رخ سے متعارف کروا دیا ہے ۔ ”

قرآن کریم کی اس آیت پر عمل کا تجربہ تقریباََ تمام خواتین نے اپنے اپنے گھروں میں کیا ۔ تجربہ کامیاب رہا ۔ قرآن مجید کو واقعی پاکیزہ انسانی نفوس پر کنٹرول حاصل ہے ، صرف ارادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ قرآن انسانوں کو تبدیل کرنے پر قادر ہے ۔ جو انسان بھی قرآن پر عمل کی حلاوت کا مزہ چکھ لیتا ہے ، وہ پھر قرآن کو کبھی نہیں چھوڑتا ۔ یہ انسان اپنے آپ کو قرآنی سانچے میں ڈھالنے ، اپنے آپ کو بہتر میں تبدیل کرنے اور بالآخر اپنے تئیں قرآن کے رنگ میں رنگنے کا عمل جاری رکھتا ہے ۔ یہ مسلسل ارتقاء کا عمل ہے ۔

~~~~~~~~

Latest news

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ مستقل نائلہ کو...

اندر باہر کا رشتہ

✒: ام مریم آمنہ نے جیسے ہی فجر کی نماز پڑھ کے سلام پھیرا تو آیان کو جاۓ نماز پر...

محبتیں زندہ رہتی ہیں!

✍? مریم خالد استاد ذوق کو کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر لگتا ہو...
- Advertisement -

رحمت کا سودا

رحمت کا سودا تحریر : خدیجہ اسحاق "رخشی آپی ....اتنی بے جا پابندیاں نہ لگایا کریں پلیز! آپ کو تو ہر...

سوال نمبر 2

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔ تین بچے ہیں۔ شوہر اور سسرال والے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں...

Must read

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم...
- Advertisement -

You might also likeRELATED
Recommended to you