ادبیات ہلکا پھلکا محبتیں زندہ رہتی ہیں!

محبتیں زندہ رہتی ہیں!

-

- Advertisment -

✍? مریم خالد

استاد ذوق کو کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر لگتا ہو تو لگا کرے۔ ہمیں کیا؟ اپنے دل کو تو وہی سرخئ شام سپیدۂ سحر ہے جب اپنی ہی بہن سے ملاقات ہو جائے۔ وہ بھی ہاسٹل کی اداس فضاؤں میں۔
اپنا کمرہ تبدیل کر کے نیا آباد کرنا تھا۔ تب اس کی تشریف آئی۔ کام دیکھ کر اس کی ساری تھکن کمرے کی گرد کے ساتھ دھول ہو گئی۔ کمرے کی وہ کھڑکیاں بھی جھاڑ ڈالیں جنہیں صفائی والی آنٹی نے بھی درخورِ اعتنا نہ سمجھا تھا۔ وہ وہ درز بھی صاف کیے جو مجھے کبھی نظر نہ آنے کے تھے۔ پھر ہم نے مل کر پورا کمرہ نکھارا، سنوارا اور سجایا۔ اس کے خوشگوار ماحول میں بیٹھ کر مزے سے رات کا کھانا کھایا۔ دیر تک دوستوں کے ساتھ بیٹھک جمائی۔ 
اگلے روز اس کے جانے کے بعد معلوم ہوا کہ مجھے دوسری جگہ اپنا من پسند کمرہ مل گیا ہے۔ خوشی خوشی سامان اٹھایا مگر جب دیواروں کے ان حاشیوں پہ نگاہ گئی جنہیں بہن نے کتنی محنت سے اجالا تھا تو دل کے آئینے بجھ سے گئے۔ ہر چیز جو اس نے بہترین طریقے سے سیٹ کی تھی، جب ہلانے کی باری آئی تو دل کے بام و در گویا ہل گئے۔ اپنی ساری تھکن بھول کر اس نے جس طور سے در و دیوار کو اپنی محبت سے مہکایا تھا، میں نے چاہا کہ اسے کسی طرح اپنی روح میں بسا لوں۔ دل جانتا ہے کہ کس طرح بار بار اس کمرے کو پیچھے پلٹ پلٹ کر دیکھا تھا۔

اب__

نیا کمرہ سیٹ ہو چکا ہے۔ بالکل اسی انداز میں جیسے اس نے کیا تھا۔ میں نے خود آج وہ کھڑکیاں اسی طرح اُجالی ہیں جیسے کل اسے کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ دیواریں کے کنارے اسی طرح صاف کیے  ہیں جیسے کل اس نے صاف کیے تھے۔ کمرے کی ہر چیز عین اسی طرح رکھی ہے جیسے اس نے رکھی تھی۔ نیچے قالین پہ بیٹھے ٹیک لگائے دل مضطرب ہے۔ بہت مغموم۔ کیا میری بہن کی کل کی وہ سب محنت رائیگاں گئی؟ میرے کام تو نہ آ سکی تو__کیا بےسود تھا وہ سب کچھ؟ 

جواب ہاں میں آتا ہے مگر مجھے یہ ہاں نہیں چاہیے۔ آنکھیں پردرد ہیں اور دل بہت بوجھل۔ نجانے خیالات یونہی کہیں بکھرنے سے لگے ہیں۔ کل سب کے ساتھ بیٹھ کر سورہ یس کی کچھ آیات پہ تدبر کیا تھا۔ ﷲ نے کہا تھا: 
“بےشک ہم ضرور، ہاں ضرور ہی ہم مُردوں کو زندہ کریں گے۔
اور ہم لکھتے جا رہے ہیں وہ سب کام جو انہوں نے آگے بھیجے۔ اور وہ بھی جو انہوں نے پیچھے چھوڑے۔”
یک لخت میری آنکھیں کھٹاک سے کھلیں۔ یہ کیا کہا ﷲ نے؟ ہم وہ سب لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا؟ مطلب جو کل سارا کام اس نے کروایا وہ ﷲ نے لکھ لیا تھا؟ وہ محفوظ ہو گیا تھا؟ بھلا کہاں محفوظ ہوا، کتنا محفوظ ہوا؟ 
” وَ کُلَّ شَیۡءٍ” اور ہر ہر چیز کو
” اَحۡصَیۡنٰہُ” گن رکھا ہے (جیسے کنکریوں پہ گنتے ہیں، مکمل طور پر) 
“فِیۡۤ اِمَامٍ  مُّبِیۡنٍ” ایک کھلی کتاب میں 
(ہم نے ہر چیز کو گن کر ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے۔) 
یعنی وہ الماریوں کا ہر خانہ، کھڑکیوں کا ہر کونہ، بستر کی ہر شکن، فرش کا ہر کنارا جو اس نے سنوارا وہ سب کا سب اللہ نے لکھ کر محفوظ کر لیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ “وَ آثَارَھُم” “جو کچھ انہوں نے پیچھے چھوڑا” وہ بھی ﷲ نے لکھ لیا تھا‌۔ یعنی میں نے اسے دیکھ کر جو سیکھا، جو کچھ بھی سمجھا اور پھر دوبارہ اسی طرح جو کمرہ سیٹ کیا وہ سب کچھ بھی ﷲ نے اس کے کھاتے میں لکھ دیا تھا؟ کیا واقعی؟ 
دلِ رنجور بہت ہی مسرور ہے اب۔ پتہ ہے آنکھیں ٹھنڈی ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ کہ دل اتنا خوش ہو، اتنا کہ آنکھیں بہنے لگیں۔ سب غم دھلنے لگیں۔ پریشانی کے سب سائے ڈھلنے لگیں۔
نہیں معلوم کون لوگ ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی رب نہیں ہے۔ نجانے وہ زندہ کیسے رہتے ہیں۔ کھڑکی سے آتی نیم روشنی میں ٹیک لگائے جب وہ یہ سوچتے ہوں گے کہ ان کی پورے دن کی، پورے سال کی اور پوری زندگی کی محنتیں، محبتیں اور چاہتیں کیا رائیگاں گئیں تو دریچوں سے آتا ‘ہاں’ کا جواب ان کی بےقرار آنکھوں کو کس طور کرب سے بھر دیتا ہو
گا؟ وہ جب سوچتے ہوں گے کہ انسان ہمیشہ کے لیے مٹی ہی مٹی ہے تو روح کے ویران جزیروں پہ کیسے خاک سی اڑتی ہو گی؟ 
ترس آتا ہے ان پر۔
مجھے اب سمجھ آتی ہے کہ زمین کے سینے پہ محبتیں نہیں مرتیں۔ پرانے کمروں میں، پچھلے مکانوں میں، ماضی کے صندوقوں میں، بھولی بسری یادوں میں لکھی چاہتوں کی تحریریں کبھی بھی راہِ فنا کی دھول نہیں ہوتیں۔ وقت گزر جاتا ہے مگر محبت امر ہو جاتی ہے۔
مجھے احساس یہ بھی ہوتا ہے کہ جب خالقِ کائنات نے ہاتھ کی ہر ہر جنبش کو، زباں کے ایک اک بول کو لکھنا ہی لکھنا ہے تو ہم کیوں نہ محبت کی، نیکی کی داستان میں امر ہوں۔ آخر پھر نفرت کی، حسد کی اور گناہ کی تحریر میں زندہ رہنے کا کیا مقصد؟ بدی میں نام کمانے سے کیا حاصل؟
نفرتوں اور گناہوں کے صحرا میں اڑتے پھرنے کی بجائے محبتوں اور نیکیوں کے گلستاں میں ابد تک کیوں نہ مہکیں ہم؟ 

Latest news

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ مستقل نائلہ کو...

اندر باہر کا رشتہ

✒: ام مریم آمنہ نے جیسے ہی فجر کی نماز پڑھ کے سلام پھیرا تو آیان کو جاۓ نماز پر...

محبتیں زندہ رہتی ہیں!

✍? مریم خالد استاد ذوق کو کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر لگتا ہو...
- Advertisement -

رحمت کا سودا

رحمت کا سودا تحریر : خدیجہ اسحاق "رخشی آپی ....اتنی بے جا پابندیاں نہ لگایا کریں پلیز! آپ کو تو ہر...

سوال نمبر 2

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔ تین بچے ہیں۔ شوہر اور سسرال والے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں...

Must read

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم...
- Advertisement -

You might also likeRELATED
Recommended to you