اسلام حدیث و سیرت محمدِ عربی ﷺ قسط: 7 زیرِ مطالعہ عنوانات: باب...

محمدِ عربی ﷺ قسط: 7 زیرِ مطالعہ عنوانات: باب 3، پوائنٹ 4،5،6

-

- Advertisment -

انتساب

ان غیور، خوددار، حوصلہ مند اور سرفروش فرزندانِ اسلام کے نام:
▪ جو نامِ محمد ﷺ سے عشق رکھتے،
▪ جو آپ کی ایک ایک ادا پر جان دیتے،
▪ جو آپ ﷺ کی پیروی کو اپنی سب سے بڑی سعادت سمجھتے،
▪ اور جو آپ ﷺ کے لگائے ہوئے چمن کو اپنے خونِ جگر سے سینچنے کاعزم رکھتے ہیں.

—————

بسْـــــــمِ اللہِ الــرحمٰن الــرحیم

باب: خدا کی آواز

— •❀ (4 ) ❀•—

اب فرشتے کا انتظار تھا،
اسی فرشتے کا جس کو آپ نے دیکھا تھا.
جسے ورقہ نے” ناموس موسیٰ” کہا تھا.
اور جسے خدیجہ نے بالیقین فرشتہ بتایا تھا.
آپ انتظار کرتے رہے، کرتے رہے، کرتے رہے،
لیکن جبریل نہ آئے اور آپ پر کوئی وحی نہ ہوئی، دل میں پھر ایک طوفان اٹھا،
“اس وقت میں کیا کروں؟ لوگوں کو کس طرح دعوت دوں؟ یہ سمجھانے کے لئے جبرائیل کیوں نہ آئے؟ جبریل نے ملنا کیوں چھوڑ دیا؟ جبریل پھر کوئی پیغام کیوں نہ لائے؟؟”
آپ بہت فکر مند ہوئے، دمکتا ہوا چہرہ بجھ گیا اور ہنستا ہوا دل رونے لگا.
بی بی خدیجہ کا بھی یہی حال تھا وہ بھی آپ کی طرح بہت فکرمند تھیں اور غم میں گھلنے لگیں. لیکن ضبط سے کام لیا اور دل کا غم چہرے پر نہ آنےدیا. جہاں تک ہو سکا تسلی دی اور جس طرح ہو سکا آپ کا دل بہلایا.
آپ پھر غار حرا جانے لگے. دن رات آپ وہیں رہتے. عبادت کرتے اور اپنے رب سے کہتے،
“اے رب!! تو نے مجھے نبی بنایا تھا، کہ یہ کیا ہو گیا؟ “
سینہ غم سے جل رہا تھا، اک آگ تھی جو اندر سلگ رہی تھی، اک شعلہ تھا جو دہک رہا تھا. کبھی بے خود ہو کر آپ گھاٹیوں میں پھرنے لگتے اور کبھی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاتے اور چاہتے کہ کود کر جان دے دیں.
اتنے میں حضرت جبرائیل آجاتے، اور آپ کو اطمینان دلاتے کہ
“محمد! آپ سچ مچ اللہ کے نبی ہیں.”
اس سے آپ کو سکون ہوجاتا اور آپ واپس چلے جاتے. لیکن کچھ ہی دنوں بعد پھر وہی کیفیت ہوتی اور پھر آپ پہاڑی پر چڑھ جاتے کہ کود کر جان دیدیں. حضرت جبرائیل پھر سامنے آتے اور اسی طرح اطمینان دلاتے اور آپ واپس چلے جاتے،،، آپ کے دل پر کیسی چوٹ تھی، روح میں کتنی چبھن تھی، دل پر کتنا بوجھ تھا،، وحی کا رک جانا کتنا بڑا عذاب تھا. شاید رب نے مجھے چھوڑ دیا،، یہ خیال ایک چبھتا ہوا نشتر تھا.
ایک دن کہیں سے آپ گزر رہے تھے کہ یکایک آسمان سے آواز آئی سر اٹھا کر دیکھا، تو وہی فرشتہ جو غارِ حرا میں آیا تھا، فضا میں ایک کرسی پر بیٹھا تھا،
“اے اللہ تو کتنا مہربان ہے، ایک مومن اور مخلص بندے پر،”
فرشتے کو دیکھتے ہیں، آپ ہلنے لگے کانپنے اور لرزنے لگے،، پہلی بار بھی آپ کا جسم کانپ رہا تھا،، ہوا کے پتوں کی طرح ہل رہا تھا،، لیکن کیا یہ کانپنا بھی اسی طرح کا تھا،، کیا یہ ہلنا بھی اسی جیسا تھا؟؟ خوف اور گھبراہٹ کا؟؟ رعب اور اوردہشت کا؟؟
نہیں اس میں مسرت کی حلاوت تھی، خوشی اور اطمینان کی ٹھنڈک تھی. آپ اسی حال میں گھر آئے اور فرمایا، “مجھے کچھ اوڑھا دو، مجھے کچھ اوڑھا دو. “
چنانچہ آپ پر ایک کپڑاڈال دیا گیا کہ اتنے میں فرشتہ یہ وحی لے کر آگیا.
“اے کپڑے میں لپٹنے والے،، اٹھو،، پھر ڈراؤ،،، اپنے رب کی بڑائی بیان کرو،،، اور اپنے کپڑے پاک رکھو،، اور گندگیوں سے الگ رہو،،”
اب کلیجے کو ٹھنڈک نصیب ہو گئی ذہن کو سکون مل گیا اور طبیعت کواطمینان ہو گیا. سب اندیشے دور ہوگئے اور سارے خطرے جاتے رہے اور رہیں خدیجہ تو نہ پوچھو،، ان کا کیا حال تھا،، دل گلاب تھا اور چہرہ چمکتا ہوا شباب کیونکہ ان کی تمنا پوری ہوگئی. ان کی آرزو بر آئی. وحی کا انتظار تھا، وحی پھر آ گئی. اس کے بعد کئی بار وحی آئی،، حضرت جبرئیل آتے رہے، وحی کا سلسلہ شروع ہو گیا.
خدا کا کرنا کچھ دنوں بعد وحی رک گئی. ادھر دعوت کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا اور کافروں کی طرف سے مخالفت بھی ہو رہی تھی. مخالفت کے لیے تنکے کا سہارا کافی تھا. وحی کا رک جانا تو خیر بہت بڑی بات تھی. چنانچہ انہوں نے اس موقع سے پورا فائدہ اٹھایا، بولے،
“یہ تو خوب نبی ہیں، دو چار دن آسمان سے بات چیت رہی، جبریل کا آنا جانا رہا،، اور پھر غائب،، کلام پیام سب بند،، تو بھائی محمد!! معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا رب تم سے روٹھ گیا،، اسی لیے اتنے دنوں منہ نہیں لگایا.
وحی کا رک جانا تو آپ پر یوں ہی بار تھا اور پھر کافروں کا طعنہ طبع نازک پر تیر کا کام کرتا،، چنانچہ آپ سخت بے چین ہوئے لیکن زیادہ دن نہ گزرے کہ حضرت جبرائیل پھر وہی لے کر آئے.
“گواہ ہے سورج کی روشنی اور رات کی تاریکی، جب وہ چھا جائے،، آپ کے رب نے نہ آپ کو چھوڑا ھے اور نہ وہ آپ سے ناخوش ہے. اور آپ کے لئے انجام ابتدا سے بہتر ہے اور جلد ہی آپ کا رب آپ کو دے گا اور آپ خوش ہو جائیں گے،، کیا ایسا نہیں کہ اس نے آپ کو یتیم پایا تو ٹھکانا دیا،، اور بے خبر پایا تو سیدھی راہ سجھائی اور آپ کو محتاج پایا تو مالدار کردیا تو آپ بھی کسی یتیم کے ساتھ سختی نہ کریں اور نہ کسی سائل کو جھڑکیں اور اپنے رب کی نعمتوں کا چرچا کرتے رہیں.”

اللہ اللہ!!! خدا آپ سے ناراض نہیں ہوا نہ خوش ہو کر آپ کو چھوڑ نہیں دیا. بلکہ رحمتوں سے ڈھانپ لیا اور نعمتوں سے نہال کردیا، اب وحی برابر آنے لگی. آپ کے پاس حضرت جبریل آتے، آپ کو اللہ کی آیتیں سناتے اور بتاتے کہ کیا کریں، کس طرح کریں، حضرت جبرئیل نے آپ کو یہ بھی بتایا کہ کس طرح وضو کریں، اور کس طرح نماز پڑھیں، ایک دن آپ مکہ کے بالائی علاقے میں تھے، حضرت جبرائیل آئے انہوں نے آپ کے سامنے وضو کیا اور بتایا کہ جب نماز پڑھنی ہو تو اس طرح پاک ہوں. پھر آپ نے بھی اسی طرح وضو کیا. پھر حضرت جبرائیل کھڑے ہوئے اور آپ کو نماز پڑھ کر دکھائی. آپ نے بھی ان ہی کی طرح نماز پڑھی. اس کے بعد حضرت جبرائیل چلے گئے.
اب آپ خدیجہ کے پاس آئے اور ان کے سامنے وضو کیا پھر فرمایا، نماز پڑھنے کے لیے پاک ہونے کا یہی طریقہ ہے، چنانچہ بی بی خدیجہ نے بھی اسی طرح وضو کیا. پھر آپ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے. بی بی خدیجہ نے بھی آپ کے پیچھے نماز پڑھی.

— •❀ (5) ❀•—

علی آپ کے ہی زیر پرورش تھے اور آپ ہی کے ساتھ رہتے بھی تھے. انہوں نے آپ کو نماز پڑھتے دیکھا. بی بی خدیجہ کو بھی دیکھا. انہوں نے دیکھا آپ دونوں رکوع اور سجدے کر رہے ہیں. پیاری پیاری آیتیں پڑھ رہے ہیں. ان آیتوں میں اچھی اچھی باتیں ہیں. پیاری پیاری باتیں ہیں. علی تعجب سے یہ سب دیکھتے رہے. ان کو پیارے نبی سے بہت محبت تھی آپ کی ہر ادا انہیں محبوب تھی. آپ کی ہر بات نہیں جان و دل سے عزیز تھی. وہ آپ ہی کو دیکھ کر ہر کام کرتے اور آپ جو کہتے، بےتکلف وہ مان لیتے.
“لیکن آج تو میں پہلی بار دیکھ رہا ہوں اور کبھی تو آپ اس طرح سے سجدے نہ کرتے تھے، اتنی پیاری پیاری آیتیں بھی میں نے آج ہی سنیں. “
علی گہری سوچ میں پڑ گئے، پھر آپ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے پوچھا!!!
” یہ کیا ہے؟”
آپ نے فرمایا “یہ اللہ کا دین ہے. اسی دین پر چلنے کا اللہ نے حکم دیا ہے. اللہ کے جتنے رسول آئے سب یہی دین لے کر آئے. “
علی کو بہت تعجب ہوا انہوں نے پوچھا!!
” اچھا یہ رکوع اور سجدے کیسے؟؟”
آپ نے فرمایا،
“اللہ نے مجھے نبی بنایا ہے مجھ پر اپنا کلام اتارا ہے، تاکہ میں لوگوں کو اچھی اچھی باتیں بتاؤں لوگ بھٹک رہے ہیں ان کو سیدھی راہ دکھاؤں، ان کو اللہ کی عبادت پر ابھاروں. یہ رکوع اور سجدے ہم اسی کو کرتے ہیں.”
علی نے کہا، ” یہ تو بڑی اچھی چیز ہے، تو کیا جس پر آپ ایمان لائے ہیں میں بھی لا سکتا ہوں؟ کیا آپ کی طرح میں بھی عبادت کرسکتا ہوں؟ کیا آپ کے ساتھ میں بھی نماز پڑھ سکتا ہوں؟ “
آپ نے فرمایا: ” ہاں پیارے بھائی !اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور وہی عبادت کے لائق ہے، تم بھی اسی کی عبادت کرو اور لات و عزیٰ کو چھوڑ دو. جتنے بت ہیں، سب کو چھوڑ دو. “
علی نے کہا :” اچھا ذرا میں اپنے باپ سے بھی پوچھ لوں،
رات بھر نیند نہ آئی، وہ جاگتے رہے اور آپ سے جو کچھ سنا تھا جو کچھ کرتے دیکھا تھا، سب پر غور کرتے رہے. پھر صبح ہوئی تو : “بولے میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور آپ کی پیروی کا عہد کرتا ہوں. مجھے باپ سے پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں، بتائے میں کس طرح رکوع کروں؟ کس طرح سجدہ کروں اور کسطرح اللہ کا کلام پڑھ ہوں؟”
آپ نے اسی وقت نماز سکھا دی، جو آیتیں نازل ہوچکی تھی وہ بھی یاد کرادیں. اب جب بھی آپ نماز پڑھتے، علی بھی ضرور ساتھ ہوتے. علی اور زید ایک ساتھ ہی رہتے تھے. بھلا وہ علی سے پیچھے رہنے والے کب تھے، وہ بھی ایمان لے آئے اور شوق سے دین کی باتیں سیکھنے لگے.

اس طرح آپ پر سب سے پہلے بی بی خدیجہ ایمان لائیں،، پھر علی اور زید مسلمان ہوئے اور مرتے دم تک آپ سے چمٹے رہے. ان کا آپ کا جب سے ساتھ ہوا، انہوں نے آپ کو بہت بڑا انسان پایا، آپ کو ہر درجہ شریف اور نیک دل پایا اور نہ جانے کیا کیا پایا. یہی وجہ ہے کہ ان کو آپ سے بے پناہ محبت ہوگی اور آپ کی رفاقت ان کے لئے آرام جان بن گئی. یوں سمجھنا چاہیے کہ وہ دونوں دعوت اسلام سے پہلے ہی مسلمان تھے.
اس کے بعد ابو بکر ایمان لائے. یہ ابو قحافہ تیمی کے بیٹے تھے اور آپ کے گہرے دوست تھے. آپ کی سچائی اور پاکبازی سے بہت متاثر تھے. اسی لئے آپ سے بہت محبت کرتے. بےانتہا ادب و احترام کرتے اور آپ کی صحبت کو غیر معمولی نعمت سمجھتے.دل کو دل سے راہ ہوتی ہے، آپ بھی ان سے بڑی محبت کرتے اور بہت ہی پیارا خلوص سے ملتے. انہیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن پاک کی چند آیتیں سنائیں. انہوں نے آبائی دین کو ہاتھوں سے سلام کیا اور کلمہ پڑھ کر ایمان لے آئے. آپ نے اسلام کی دعوت دی اور دین کی خوبیاں بیان کیں. اور ان کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے، جو انتہائی اخلاص و عقیدت کا نمونہ تھے،
“میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ نے سچ فرمایا: اور سچ بولنا آپ کا کام ہے. میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں.”
بی بی خدیجہ نے یہ باتیں سنیں تو مارے خوشی کے اچھل پڑیں، ان سے رہا نہ گیا اور سر پر نقاب ڈالے اور سامنے آ کر مبارکباد دی. بولیں :
” ابو قحافہ کے بیٹے: خدا کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو ہدایت دی.”
ابوبکر اسلام لائے تو آپ کو بڑا سہارا ملا اور کام کے لئے کچھ میدان بھی ہموار ہوگیا. حضرت ابوبکر بہت رحم دل اور نرم مزاج تھے، ساری قوم ان کی عزت کرتی. چھوٹے بڑے سب ان کا احترام کرتے. وہ قریش کے سب سے اونچے گھرانے سے تھے. وہاں کے برے بھلے سب ان کی نگاہ میں تھے. تجارت ان کا پیشہ تھا اس میں بڑی برکت ہوئی. دولت کے ساتھ دل بھی دیا، مال آتا رہا اور وہ دل کھول کر خرچ کرتے رہتے. سوجھ بوجھ اور دانائی بھی بلا کی تھی، مشکل سے مشکل بات چٹکی بجاتے حل کردیتے. اسی لئے ہر معاملے میں لوگ ان سے مشورہ کرتے اور یوں بھی ان کے پاس آ کر بیٹھا کرتے. ان میں کچھ ایسی باتیں تھیں جو دلوں کو موہ لیتیں. اب ابوبکر بھی اسلام پھیلانے لگے. جو لوگ ان کی سمجھداری سے متاثر تھے، انہوں نے دین کی باتیں بتائیں. اسلام لانے کی دعوت دی تو ان کی بات مان لی اور اسلام لے آئے اور جو لوگ پہلے مسلمان ہوئے.

وہ یہ ہیں: عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، عبد الرحمن بن عوف،، سعد بن ابی وقاص،، طلحہ بن عبیداللہ رضوان اللہ ھو علیہم اجمعین.
پھر جراح کے بیٹے ابو عبیدہ اور ابوارقم کے بیٹے ارقم مسلمان ہوئے. پھر بہت سے لوگ مسلمان ہوئے. مرد بھی عورتیں بھی. جو عورتیں وہاں لائیں ان میں پیارے نبی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں بھی تھیں.

— •❀ (6) ❀•—

اب اسلام رفتہ رفتہ پھیلنے لگا. لوگ مسلمان ہوتے لیکن کھلم کھلا اعلان نہ کرتے. ابھی آپ نے بھی کھل کر کام نہ کیا تھا. ابھی کھل کر لوگوں کو اسلام کی دعوت نہ دی اور جو مسلمان تھے وہ بھی اپنے اسلام کو چھپاتے اور اندر ہی اندر دین کی تبلیغ کرتے. جن لوگوں میں وہ ایمانداری کی بو پاتے اور کچھ حق کی طلب محسوس کرتے، بس ان کو ہی وہ دین کی دعوت دیتے اور قریشی سرداروں کی نظروں سے بہت بچ بچ کر رہتے. قرآن کی تلاوت کرنی ہوتی یا آیتیں یاد کرنی ہوتیں تو بستی کے باہر نکل جاتے، نماز کا وقت ہوتا تو چھپ چھپا کر غاروں میں چلے جاتے اور وہاں اطمینان سے نماز ادا کرتے,. پھر پرانے مسلمان نئے مسلمانوں کو حدیث سے یاد کراتے اور دین کی باتیں بتاتے. کسی طرح کافروں کو بھی سند مل گئی. لہذا اب سارا بھید جاننے کی فکر ہوئی اور وہ مسلمانوں کی ٹوہ میں لگ گئے. چنانچہ بہت جلد ساری باتیں معلوم ہو گئیں اور وہ جان گئے کہ مسلمانوں غاروں میں جا جا کر نماز پڑھتے اور باہم کوئی نیا دین سیکھتے سکھاتے ہیں. انہیں معلوم ہوگیا کہ آپ توحید کی دعوت دیتے ہیں اور شرک و بت پرستی سے روکتے ہیں. بتوں کی دنیا میں توحید کی آواز،، کتنی عجیب آواز تھی،،، کیا محمد، ابو طالب کا یہ بھتیجا، نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے؟
کیا وہ سب کو دین سے پھر جانے پر ابھارتا ہے؟
کیا وہ دیوتاؤں سے بے وفائی پر اکساتا ہے؟
قومی دین سے بغاوت آبائی دین سے عداوت؟ کیا محمد کی یہ ہمت ہو گئی؟ ہر سو ایک ہلچل مچ گئی اور ہر طرف ایک ہنگامہ برپا ہوگیا. جسے دیکھیے، غصے سے بے تاب تھا، کسی نے کہا، جن کا اثر ہے اور کوئی بات نہیں، کسی نے کہا اس کو نام و نمود کی ہوس ہے اور یہ تو ایک نشہ ہے، جس کو زمانہ خود ہی اتار دے گا، ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں.
یہ سوچ کر ان لوگوں نے آپ کو لائق التفات ہی نہ سمجھا. مگر کچھ ایسے بھی تھے جو اس نے دین کی طرف متوجہ ہوئے ان کو خیال ہوا کہ چلیں اس دن کو بھی جانچیں پرکھیں اور دیکھیں. اس میں کیا ہے، ہوسکتا ہے کوئی کام کی چیز مل جائے. نقصان تو ہو گا نہیں، ہوگا تو فائدہ ہی ہوگا. یہ سوچ کر وہ جائزہ لیتے یہ ہوتا کہ اس میں ان کو اچھا ی نظر آتی اور وہ مسلمان ہو جاتے. ابو طالب کے دل میں آیا کہ چلیں بھتیجے سے ملیں اور دیکھیں اس نے کیسا دین نکالا ہے. ایک دن ابوطالب اسی ارادے سے گھر سے نکلے، ساتھ میں علی کے بھائی جعفر بھی تھے. آئے تو دیکھا کہ آپ ایک گھاٹی میں نماز پڑھ رہے ہیں اور ساتھ میں لختےجگر علی بھی ہے. دونوں آبادی سے بہت دور آ کر نماز پڑھ رہے ہیں،، کیوں؟
ان کے اور ان کے ساتھیوں کے ڈر سے؟ آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ابوطالب نے پوچھا :”بھتیجے تم نے یہ کیسا دین اپنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :”چچا یہ اللہ کا دین ہے، اس کے فرشتوں کا دین ہے، یہی سارے نبیوں اور رسولوں کا دین ہے. دادا ابراہیم کا بھی یہی دین ہے. اللہ نے یہ دین دے کر مجھے دنیا کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے کہ آپ کا مجھ پر سب سے زیادہ حق ہے. میری خیرخواہی کے آپ سب سے زیادہ مستحق ہیں. آپ کے ساتھ میری سب سے بڑی خیرخواہی یہی ہے کہ آپ کو اس دین کی دعوت دوں. آپ کو بھی چاہیے میری اس خواہش کو ٹھکرائیں نہیں.”
ابو طالب نے کہا :” بھتیجے !باپ دادا کا دین چھوڑنا میرے لئے تو ناممکن ہے، البتہ میری ہمدردیاں تمہارے ساتھ ہیں. جب تک جان میں جان ہے تمہارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا.”
پھر علی کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا،” بیٹے اس دین میں تو آگئے لیکن اسے سمجھتے بھی ہو؟ علی نے جواب دیا، ہاں اباجان میں خدا اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں اور جو وہ کہتے ہیں اس کو مانتا ہوں. رب کو خوش کرنے کے لئے نماز بھی پڑھتا ہوں. “
ابو طالب نے کہا “ٹھیک ہے بیٹا محمد بھلی باتیں ہی بتاتے ہیں. وہ جیسا کہیں ویسا ہی کیا کرو. “
ابوطالب خود تو مسلمان نہ ہوئے مگر بیٹوں کے لیے اسلام کو ہی پسند کیا. کیا اس میں بھی کوئی راز تھا؟
قریش کے ساتھ ان کا کیا انداز رہا؟ پیارے نبی کے ساتھ کیا برتاؤ رہا؟ یہ ساری باتیں سامنے آئیں گی تبھی کوئی فیصلہ ہو گا. مسلمان جب نماز پڑھتے تو قریش ان کا مذاق اڑاتے. وہ رکوع کرتے تو یہ قہقہ لگاتے، جب وہ سجدے کرتے تو یہ جملے چست کرتے. روز بروز یہ چیز بڑھتی ہی گئیں. بدمعاشوں نے اسے ایک ہنسی دل لگی کا سامان بنا لیا. مسلمان مکہ کی گھاٹیوں میں عصر اور چاشت کی نماز پڑھا کرتے. اس وقت یہ بھی وہیں پہنچ جاتے، پھر آنکھیں مارتے، کچھ اشارے کرتے اور پھر زور کا قہقہ لگاتے.
اتفاق سے ایک دن مسلمانوں کو غصہ آگیا اور وہ جوش سے بے قابو ہوگئے اور فریقین کی آستینیں چڑھ گئی. جنگ شروع ہوگئی، حضرت سعد بن ابی وقاص نے ایک مشرک کو ایسا مارا کے کھوپڑی پھٹ گی اور پھر خون کے فوارے جاری ہوگئے. یہ پہلا خون بہا جو عرب میں اسلام کے لئے بہا. جتنا ہوسکتا پیارے نبی مشرکوں سے دور رہتے. تاکہ مسلمان ان کی شرارتوں سے محفوظ رہیں. چنانچہ قرآن سنانا ہوتا یا کوئی وحی سنانی ہوتی تو آپ سب کو دارِارقم میں لے کر چلے جاتے. آپ کو نبی ہوئے تین سال ہو گئے، اب ہر ایک جان گیا کہ آپ ایک نئے دین کی دعوت دیتے ہیں اور سب کو معلوم ہو گیا کہ آپ زور پکڑ گئے ہیں اور ساتھی کافی بڑھ گئے ہیں. چنانچہ اب اللہ کا حکم ہوا کہ آپ کھلم کھلا دعوت دیں. جو کام اب تک چھپ کر کرتے تھے، اب یہ کھلم کھلا کریں.
“آپ کو جو حکم ملے کیے جائیں اور مشرکوں کے چکر میں نہ پڑیں. “( الحجر 94)
=====
جاری ہے،،،

Latest news

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ مستقل نائلہ کو...

اندر باہر کا رشتہ

✒: ام مریم آمنہ نے جیسے ہی فجر کی نماز پڑھ کے سلام پھیرا تو آیان کو جاۓ نماز پر...

محبتیں زندہ رہتی ہیں!

✍? مریم خالد استاد ذوق کو کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر لگتا ہو...
- Advertisement -

رحمت کا سودا

رحمت کا سودا تحریر : خدیجہ اسحاق "رخشی آپی ....اتنی بے جا پابندیاں نہ لگایا کریں پلیز! آپ کو تو ہر...

سوال نمبر 2

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔ تین بچے ہیں۔ شوہر اور سسرال والے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں...

Must read

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم...
- Advertisement -

You might also likeRELATED
Recommended to you