کالم اور مضامین میں اور میرا مالک

میں اور میرا مالک

-

- Advertisment -

میرا خالق و مالک اللہ تعالی ہے۔ اپنی بے حد و حساب ان گنت مخلوقات میں سے اس نے مجھے اپنی نوعیت کی انفرادیت بخشی ہے۔ میں اس وقت زندگی کے جس موڑ پر ہوں، قیاس آرائی یا اندازہ کرتے ہوئے کہہ سکتی ہوں کہ نصف زندگی میں گزار چکی ہوں۔(ویسے تو ہمیں اگلے لمحے کا بھی کچھ یقین نہیں۔ لیکن چلیں اس خوش فہمی میں جیتے ہیں کہ ابھی آدھی زندگی باقی ہے۔ )گزر جانے والی زندگی پر نظر کرتی ہوں تو ماتم کناں ہوں کہ خالق و مالک کے بارے میں کچھ نہ جانتی تھی۔ اللہ اللہ تو زبان سے ہمیشہ ہی ادا ہوتا رہا لیکن دل و دماغ،،، روح و زباں نے ہم آہنگ ہو کر کبھی نہ سمجھا کہ میرا خالق و مالک اللہ کون ہے، کہاں ہے، میرا اور اس کا تعلق کیا ہے، کیسا ہے۔ کیسا ہونا چاہیئے ؟؟؟
اب اس محرومی کا احساس ہونے لگا ہے اور شدت سے یہ خواہش ابھرنے لگی ہے کہ اس خالق و مالک کا پتہ مل جائے۔ میں اسے محسوس کروں ،،، اسے دیکھوں،،، اس سے بات کروں کہاں ہے وہ
میری شہ رگ سے بھی قریب
عرش عظیم پر
آسمانوں اور زمینوں کا نور۔۔۔۔۔۔
میں جانتی ہوں میں اتنی بڑی بڑی خواہشوں کے لائق نہیں۔۔۔ مگر اس کے ساتھ ایک تعلق ایک،، مخلصانہ تعلق کیسے اور کیوں کر قائم ہو ؟

میرا وجود، میری طاقت، دل و دماغ، زاویہ نگاہ حتی کہ خیال ہر شے کا لیول اتنا حقیر اور چھوٹا یے کہ اتنی بڑی ہستی کے ساتھ تعلق استوار کرنے کی کوئی راہ نہیں سوجھتی۔


لیکن اک تڑپ روح و دل کو بے قرار کیے دیتی ہے،،، مجبور کرتی ہے کہ کوشش کروں اس تعلق کو جوڑنے کی جو روز ازل سے ابد تک جڑا رہنے کے لیے بنا ہے اور جس کا مجھے ادراک نہیں ۔


بچہ پیدا ہوتا ہے وہ ماں کو نہیں پہچانتا،، لیکن ماں اسے پہچانتی ہے۔ وہ اپنی ضروریات کے لیے منہ کھولتا اور ہاتھ پاوں کو خفیف سی جنبش دیتا ہے۔ اور بلآخر بلک بلک کر رونے لگتا ہے ۔ نومولود میں اتنی سکت نہیں ہوتی کہ وہ حرکت کرے، کروٹ بدلے یا اپنے ہاتھ پاؤں ہلائے لیکن حیرت کی بات ہے اس کی آواز خاصی طاقت ور ہوتی ہے اور وہ معمولی نہیں غیر معمولی آواز سے روتا ہے دوسروں کی نیند میں خلل ڈالتا اور ماں کو متوجہ کر کے رہتا ہے۔ (جو پہلے سے ہی اس کی جانب توجہ کیے ہوتی ہے)
آئیے ایک نومولود کی مانند اپنے خالق کے حضور روتے ہیں،، روتے ہیں،، روتے ہیں کہ ہماری نصف زندگی حالت غفلت میں گزر گئی ۔ ہم تیری قدر تو کیا کرتے، ہم تو تجھے پہچان بھی نہ پائے۔
آئیے آج رو لیں کہ اے پیدا کرنے والے!! اے پالنے والے! اپنی پہچان عطا کر۔۔۔اپنے ساتھ ایک مخلصانہ تعلق استوار کرنے میں ہماری مدد فرما۔ اے سب سے بڑے قدر دان ،،، ہمیں یہ سعادت عطا فرما کہ ہم تیری قدر کریں ۔ اے اللہ ہمیں تقدیر کے فیصلوں پر راضی رہنے کی توفیق دے ۔ اے اللہ ہمیں موت کے بعد اچھی زندگی عطا فرما کہ ہم تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کے آرزو مند ہیں ۔ تیری ملاقات کا شوق رکھتے ہیں۔ اے اللہ تو ہم کو ایمان کی زینت سے مزین فرما دے۔ آمین ثم آمین

Previous articleکوئز نمبر 15
Next articleبہناپا

Latest news

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ مستقل نائلہ کو...

اندر باہر کا رشتہ

✒: ام مریم آمنہ نے جیسے ہی فجر کی نماز پڑھ کے سلام پھیرا تو آیان کو جاۓ نماز پر...

محبتیں زندہ رہتی ہیں!

✍? مریم خالد استاد ذوق کو کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر لگتا ہو...
- Advertisement -

رحمت کا سودا

رحمت کا سودا تحریر : خدیجہ اسحاق "رخشی آپی ....اتنی بے جا پابندیاں نہ لگایا کریں پلیز! آپ کو تو ہر...

سوال نمبر 2

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں۔ تین بچے ہیں۔ شوہر اور سسرال والے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں...

Must read

بليم گيم۔آخرى حصه

? مہوش کرن ~~~~~ گن فائر کی آواز پر ڈرائنگ روم...
- Advertisement -

You might also likeRELATED
Recommended to you